فرقہ اھل قرآن یعنی چکڑالوی، پرویزی منکرین حدیث کے عقائد و نظریات

فرقہ انکارِ حدیث کی نبی کریم ﷺ خود اس کی خبر دے چکے تھے، جیسے کہ ایک راویت میں ارشاد نبویﷺ ہے:

الا یوشک رجل شبعان علی اریکتہ یقول علیکم بھذا القرآن فما وجدتم من حلال فاحلوہ و ما وجدتم فیہ من حرام فحرموہ۔

(مشکوٰۃ:۲۹)-

ترجمہ:

قریب ہے کہ ایک امیر آدمی اپنے صوفہ پر بیٹھے یہ کہے گا کہ تمہیں قرآن کافی ہے، تم اس میں جو حلال پاؤ اسے حلال سمجھو اور جس چیز کو حرام پاؤ اُسے حرام کہو۔

فرقہ اھل قرآن کے عقائد کیا ہے؟

فرقہ پرویزیت (منکرینِ حدیث) کے عقائد و نظریات

۱۔ حدیث عجمی سازش ہے۔

(مقام حدیث:۱/۴۲۱۔ ادارہ طلوع اسلام کراچی)-

۲۔ آج جو اسلام دنیا میں رائج ہے اس کا قرآنی دین سےکوئی واسطہ نہیں ہے۔

(مقام حدیث:۱/۳۹۱۔ ادارہ طلوع اسلام کراچی)-

۳۔ قرآن مجید میں جہاں پر اللہ اور رسول کا نام آیا ہے اس سے مراد مرکز ملت ہے۔

(اسلامی نظام:۸۶۔ ادارہ طلوع اسلام کراچی۔ معارف القرآن:۴/۶۲۶)-

۴۔ اور جہاں پر اللہ اور رسول کی اطاعت کا ذکر ہے اس سے مراد مرکزی حکومت کی اطاعت ہے۔

(معارف القرآن:۴/۶۲۶)-

۵۔ قرآن میں أَطِيعُوا اللہ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ (نساء:۵۹) میں اولی الامر سے مراد افسرانِ ماتحت ہیں۔

(اسلامی نظام:۱۱۰)-

۶۔ رسول کا کام صرف اتنا تھا کہ وہ اللہ کا قانون انسانوں تک پہنچادیں۔

(سلیم کے نام (پرویز):۲/۳۴، ادارہ طلوعِ اسلام کراچی)-

۷۔ آپﷺ کی وفات کے بعد آپؐ کی اطاعت نہیں ہوگی، اطاعت زندوں کی ہوتی ہے۔

(سلیم کے نام (۱۵واں خط) ۲۵۰۔ خط نمبر۲۰۔۲۱ میں بھی یہی مضمون ہے)-

۸۔ ختم نبوت کا مطلب یہ ہے کہ اب انسانوں کو اپنا معاملہ خود ہی حل کرنا ہوگا۔

(سلیم کے نام (۱۵واں خط) ۲۵۰۔ خط نمبر۲۰۔۲۱ میں بھی یہی مضمون ہے)

۹۔ مرکز ملت کو اختیار ہے کہ وہ عبادات، نماز، روزہ، معاملات وغیرہ میں جس چیز کو دل چاہے بدل دے۔

(قرآنی فیصلے:۳۰۱۔ ادارہ طلوعِ اسلام کراچی)

۱۰۔ اللہ تعالیٰ کا (معاذ اللہ) کوئی خارج میں وجود نہیں ہے، بلکہ اللہ ان صافت کا نام ہے جو انسان اپنے اندر تصور کرتا ہے۔

(معارف القرآن:۴/۴۲۰)

۱۱۔ آخرت سے مراد مستقبل ہے۔

(سلیم کے نام ۲۱واں خط:۲/۱۲۴)

۱۲۔ آدم علیہ السلام کا کوئی وجود نہیں، یہ تو نام ہے نوعِ انسانی کا۔

(لغات القرآن:۱/۲۱۴)

۱۳۔ آپﷺ کا قرآن مجید کے سواء کوئی معجزہ نہیں ہے۔

(سلیم کے نام خط:۳/۳۶۔۳/۹۱۔ معارف القرآن:۴/۷۳۱)

۱۴۔ نماز مجوسیوں سے لی ہوئی ہے، قرآن مجید نے نماز پڑھنے کے لئے نہیں کہا بلکہ قیامِ صلوٰۃ یعنی نماز کے نظام کو قائم کرنے کا حکم ہے، مطلب یہ ہے کہ معاشرہ کو ان بنیادوں پر قائم کرنا چاہئے جن سے اللہ کی ربوبیت کی عمارت قائم ہوجائے۔

(قرآن فیصلے:۲۶۔ معارف القرآن:۴/۳۲۸۔ نظامِ ربوبیت:۸۷)

۱۵۔ آپﷺ کے زمانہ میں نماز دو وقت میں تھی(فجر و عشاء)۔

(لغات القرآن:۳/۱۰۴۳)

۱۶۔ زکوٰۃ اس ٹیکس کا نام ہے جو اسلامی حکومت لیتی ہے۔

(قرآنی فیصلے:۳۷۔ سلیم کے نام ۵واں خط:۱/۷۷)

۱۷۔ آج کل زکوٰۃ نہیں ہے، کیونکہ ٹیکس ادا کردیا جاتا ہے، تو اب زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔

(نظامِ ربوبیت:۷۸)

۱۸۔ حج نام ہے عالمِ اسلامی کی عالمی کانفرنس کا۔

(لغات القرآن:۲/۴۷۴)

۱۹۔ قربانی تو صرف عالمی کانفرنس میں شرکاء کے کھلانے کے لئے تھی، باقی قربانی کا حکم کہیں نہیں۔

(رسالہ قربانی:۳۔ قرآنی فیصلے:۵۵/۱۰۴)

۲۰۔ قرآن کی روح سے سارے مسلمان کافر ہوتے، موجودہ زمانہ کے مسلمان برہمنو سماجی مسلمان ہیں۔

(سلیم کے نام ۳۵واں خطا:۳/۱۹۷)

۲۱۔ صرف چار چیزیں حرام ہیں: (۱)بہتا ہوا خون۔ (۲)خنزیر کا خون۔ (۳)غیر اللہ کے نام کی طرف منسوب چیزیں۔ (۴)مردار۔

(حلال و حرام کی تحقیق)

۲۲۔ جنت اور جہنم کی بھی کوئی حقیقت نہیں، جو صرف انسانی ذات کی کیفیات کے یہ نام ہیں۔

(لغات القرآن:۱/۴۴۹، ادارہ طلوع اسلام لاہور)

کیا وہ اسلام سے خارج ہے؟

★★یہ باطل فرقہ ہے اور مذکورہ عقائد کفریہ ہیں ـ

اس فرقہ کا بانی کون ہے؟؟

★★ حدیث کا انکار اگرچہ سر سیّد احمد خان، مولوی چراغ علی نے بھی کیا، مگرہ وہ کھل کر سامنے نہیں آئے، عبد اللہ چکڑالوی نامی شخص ہے جس نے سب سے پہلے کھلم کھلا حدیث کا انکار کیا۔

نام: اس کا نام ابتداءًا قاضی غلام نبی تھا اور یہ چکڑالہ ضلع میانوالی کا رہنے والا تھا، مگر نبی اور حدیث کی نفرت کی وجہ سے اس نے اپنا نام غلام نبی سے بدل کر عبد اللہ رکھ لیا۔

تعلیم: اس نے تعلیم ڈپٹی نذیر احمد سے حاصل کی، کیونکہ ڈپٹی نذیر احمد بھی ترک تقلید کی طرف مائل تھے، تو یہ اثر عبد اللہ کے اندر بھی آیا اور پھر یہی اثر بڑھتے بڑھتے انکارِ حدیث تک پہنچ گیا۔

ابتداء میں یہ خود اپنی مسجد میں بخاری شریف کا درس دیتے رہے مگر پھر آہستہ آہستہ حدیث کا بالکل انکار کرنا شروع کردیا، سید قاسم محمود صاحب اسلامی انسائیکلوپیڈیا میں تحریر کرتے ہیں:

’’ایک عرصہ تک بخاری شریف کا اس نے درس جاری رکھا، مگر طبعی اضطراب نے بخاری اور قرآن کا توازن شروع کردیا، بعض احادیث کو خلافِ آیات اللہ قرار دے کر اعلان کردیا کہ جب قرآن ایک مکمل ہدایت ہے تو حدیث کی ضرورت ہی کیا ہے؟ (یہ سن کر) چینیاں والی مسجد کے مقتدی کچھ عرصہ تک تو برداشت کرتے رہے، پھر ایک دن مسجد سے نکال دیا‘‘۔

(اسلامی انسائیکلوپیڈیا:۱۷۳)-

__________________________

Read More..

__________________________

آگے سید محمود قاسم لکھتے ہیں:

’’جب عبد اللہ چکڑالوی کو مسجد سے نکال دیا گیا تو ایک متشدد مقتدی محمد غبش عرف چٹو پھدالی ان کو سییانوالی بازار اپنے مکان میں گیا جہاں احاطہ میں ایک مسجد بناکر اہل قرآن کے مسائل کی تشہیر شروع کردی‘‘۔

(اسلامی انسائیکلوپیڈیا:۱۷۳)-

ان کے چچازاد بھائی قاضی قمر الدین جو حضرت مولانا احمد علی محدث سہارنپوری رحمۃ اللہ علیہ اور احمد حسن کانپوری کے شاگرد تھے انہوں نے کھل کر مقابلہ کیا، نیز عبد اللہ چکڑالوی کے لڑکے قاضی ابراہیم نے بھی اپنے والد صاحب کا مسلک ماننے سے انکار کردیا، دوسرے صاحبزادے قاضی عیسیٰ اگرچہ کچھ دنوں تک والد کے ساتھ رہے، مگر پھر ان کو بھی توبہ کی توفیق ہوئی۔

وفات کا عبرتناک واقعہ

ایک مرتبہ لوگوں نے موقع دیکھ کر اس کو سنگسار کردیا کہ اتنا پتھروں سے مارا کہ وہ مرنے کے قریب ہوگیا، جب لوگوں نے دیکھا کہ یہ مرنے کے قریب ہے تو نیم مردہ حالت میں اس کو ملتان سے اس کے آبائی گاؤں چکڑالہ لے گئے، پھر چند ہی دنوں کے بعد دنیا سے رخصت ہوگیا۔

(اسلامی انسائیکلوپیڈیا:۱۷۳)-

عبد الله چکڑالوی کے بعد غلام احمد پرویز نے اس فتنہ کی باگ دوڑ سنبھالی اور اسے ایک منظم نظریہ اور مکتب ِ فکر کی شکل دیدی نوجوانوں کے لیے اس کی تحریر میں بڑی کشش تھی اس لیے اس کے زمانے میں یہ فتنہ بڑی تیزی سے پھیلا ــــ

اس کے مختصر حالات ملاحظہ فرمائیں

موصوف کا پورا نام غلام احمد پرویز اور والد کا نام چودھری فضل دین تھا، متحدہ ہندوستان کے معروف شہر بٹالہ (ضلع گورداس پور) کے ایک سنی حنفی گھر میں ۹/جنوری ۱۹۰۳ء میں پیدا ہوئے، ان کے دادا حکیم مولوی رحیم بخش اپنے وقت کے مانے ہوئے صوفی بزرگ تھے اور اور چشتیہ نظامیہ سلسلہ سے تعلق رکھتے تھے۔

تعلیم: ابتدائی تعلیم اور مذہبی تعلیم پرویز نے اپنے گھر پر ہی والد اور دادا کی زیر نگرانی حاصل کی، ایک انگریزی اسکول Alady of England سے ۱۹۲۱ء میں میٹرک پاس کیا، پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ۱۹۲۴ء میں B.A.کی ڈگری حاصل کی، ۱۹۲۷ء میں گورنمنٹ آف انڈیا کے مرکزی سکریٹریٹ میں ملازمت اختیار کیا اور بہت جلد ترقی پاکر Heme Department کےStablishment Division میں ایک عہدہ پر کام کیا، کچھ عرصہ بعد غلام احمد پرویز کی ملاقات حافظ اسلم جیراجپوری (جو کہ بذات خود منکرین حدیث میں شمار کئے جاتے تھے) سے ہوئی اور صحبت کیونکہ عادات کو منتقل ہونے میں معاون ہوتی ہے، لہٰذا جو سوچ اسلم جیراجپوری کی تھی اس سوچ نے پرویز کی تنکیرِ حدیث کی سوچ کو مزید جِلا بخشی اور ویس اسلم جیراجپوری کا ایک جانشین تیار ہوتا چلا گیا، جوکہ بعد میں فتنہ انکارِ حدیث کے نشر و اشاعت کا بڑا ذریعہ بنا، پرویز نے ۱۹۳۸ء میں ’’طلوعِ اسلام‘‘ رسالہ جاری کیا، اس کا پہلا شمارہ اپریل ۱۹۳۸ء میں شائع ہوا اور یہی در اصل وہ مرکز بنا جہاں سے لوگوں کے ذہنوں کو اسلام، دین اور علماء سے متنفر کرنے کا آغاز ہوا اور اسلام کے لبادے میں قرآنی فکر اور قرآنی بصیرت جیسے خوبصورت الفاظ کو استعمال کر کے لوگوں شرعی حدود و قیود میں آزاد زندگی کے سبز باغ دکھائے گئے۔

پرویز کی بچپن کی تربیت

بچپن ہی سے پرویز کی تربیت اتنے متنوع ماحول میں ہوئی، وہ خود لکھتے ہیں’’میں جس جذب و شوق سے میلاد کی محفلوں میں شریک ہوتا تھا، اسی سوز و گداز کے ساتھ عزا داری کی مجلسوں میں بھی حاضری دیتا تھا وار قوالی تو خیر تھی ہی جزوِ عبادت، اسی قسم کے اضداد کا مجموعہ تھا، میرے بچپن اور ابتدائے شباب زمانہ‘‘۔

(غلام احمد پرویز، از قاسم نوری:۷۲۔۷۴)-

اس صفحہ کے حاشیہ پر علامہ پرویز نے لکھا ہے کہ ’’ویسے بھی صوفی آدھا شیعہ ہوتا ہے‘‘، پرویز کے نظریات کے اس قدر کفر آمیز ہونے کی وجہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے بغیر کسی عالم کے کے تفسیر پڑھی، پھر ان کی تربیت بھی غیر دینی ماحول میں ہوئی، اول تو انگریزی ماحول تعلیم تھا، پھر سر سید کے خیالات کا مطالعہ، اس طرح ان کے ذہن میں انکارِ حدیث کے فتنہ جڑ پکڑ لی۔

’’بی اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد انگریزی ادب، فلسفہ، تاریخ، سائنس، ٹیکنالوجی اور معاشیات کے علوم پر توجہ دینی شروع کردی، ساتھ ہی ساتھ سیاست اور اقوامِ عالم کی سیاسی اور مذہبی تحریکوں کامطالعہ شروع کردیا‘‘۔

(قاسم نوری غلام احمد پرویز:۱۲۹)-

پھر اس پر مزید ستم یہ کہ اسلم جیراجپوری جیسے منکر حدیث کی صحبت ان کو میسر آئی، خود لکھتے ہیں کہ ’’ایک حدیث پڑھ کر میرے ذہن میں سوالات اور حیرت اور استعجاب کے ساتھ ساتھ بغاوت کے جھکڑ چلنے شروع ہوئے تو علامہ محمد اقبال اور حافظ محمد اسلم جرأت کی رفاقت نے سہارا دیا‘‘۔

(قاسم نوری غلام احمد پرویز:۱۲۹)-

علماء نے تفسیر کے لئے پندرہ علوم پر مہارت کو ضروری بتایا ہے، بھلا جو عربی سے نا آشنا ہو وہ قرآن کی تفسیر کیا کرسکتا ہے، اس ماحول کو خراب کرنے کے لئے خواہش یا اس کی تعلیم و تربیت کوئی چیز بھی اس کو قرآن و حدیث میں لب کشائی کی اجازت نہیں دیتی، یہی وجہ ہے کہ پرویز نے جب اس کی جرأت کی تو قرآن کے الفاظ کو اپنی خواہشات کا جامہ پہنایا، اسی کو قرآن نے کہا ہے کہ:

أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ وَأَضَلَّهُ اللہ عَلَى عِلْمٍ ۔

(جاثیہ:۲۳)-

ترجمہ: بھلا دیکھ تو جس نے ٹہرالیا اپنا حاکم اپنی خواہش کو اور راہ سے بچلادیا اس کو اللہ نے جانتا بوجھتا۔

(ترجمۃ القرآن محمود الحق)-

در اصل دین کو ہر آدمی نے اپنی میراث سمجھ رکھا ہے، نہ مدرسہ کی تعلیم، نہ علماء کی صحبت، نہ صحیح ستہ کی رہنمائی، نہ ائمہ اربعہ کی تقلید، بلکہ یکسر سب کی نفی اور اس پر مور یہ کہ ہم بھی تو مسلمان ہیں، قرآن ہماری بھی ہے، ہم کو ہر وہ معنی اخذ کرنے کا اختیار ہے جو ہمارے مقاصد کا ممد و معاون ہو، حقیقت یہ ہے کہ ان لوگوں نے انکارِ حدیث کے ذریعہ انکارِ قرآن کی بنیاد رکھی ہے، جب ان سے پوچھا جاتا ہے: ’’کیا دوسرے مسلمان نہیں؟‘‘ تو کہتے ہیں جس کا لازمی مفہوم یہ نکلتا ہے کہ ’’ایک شخص قرآن پر عمل کرے بغیر اور اس کو مانے بغیر بھی مسلمان ہوتا ہے‘‘، تو بھلا مسلم اور کافر میں کیا فرق ہے۔

پرویز کی موسیقی سے دلچسپی

علامہ پرویز کو بچپن ہی سے شعر و شاعری اور موسیقی سے دلچسپی تھی، طبیعت کو شہ اس طرح ملی کہ پرویز کے دادا صاحب سلسلہ چشتیہ کے صوفی تھے جس میں موسیقی کو جزوِ عبادت سمجھا جاتا تھا۔

’’بہت کم لوگوں کو علم ہے کہ پرویز صاحب پایہ کے انشاء پردار، مضمون نگار اور شاعر بھی تھے، خوش گلو بھی تھے، لحن و لہجہ بھی حسین تھا اور فن موسیقی سے بھی خوب واقف تھے، کلاسیکی موسیقی سے بہت لگاؤ تھا، ان کے ہاں گراموفون ریکارڈ کا اچھا خاصا ذخیرہ تھا، شعر کہتے سُر میں ڈھالتے اور سازووں سے ہم آہنگ بھی کرتے تھے، صبح کے راگ بہت پسند تھے، خاص طور پر اساوری اور جونپوری من پسند راگ تھے‘‘۔

(قاسم نوری:۲۸)-

ملازمت:

قیامِ پاکستان کے بعد علامہ پرویز کراچی آگئے اور حکومت پاکستان کے مرکزی سکریٹریٹ میں اسی عہدہ پر کام کیا جس عہدہ پر انڈیا میں تھے، ۱۹۵۵ء میں ریٹائرمنٹ لے کر اپنی سوچ و فکر کی نشر و اشاعت کے لئے اپنے آپ کو فارغ کرلیا، اس وقت ان کے پاس اسسٹنٹ سکریٹری (کلاس ون) گزیٹڈ آفیسر کا عہدہ تھا۔

۱۹۵۳ء میں غلام احمد پرویز نےاپنی ’’قرآنی بصیرت‘‘ اور ’’قرآن فہمی‘‘ کو دروس کی شکل دینا شروع کردی اور لوگوں کے ذہنوںو سے اسلام کی حقیقت کو محو کرنا شروع کردیا، یہ درس کراچی میں پرویز کی رہائش گاہ پر ہوتا تھا، ۱۹۵۸ء میں لاہور منتقل ہوئے اور وہاں بھی ان دروس کا آغاز کیا، یہ ہفت روزہ ہوا کرتے تھے، ۱۵/اکٹوبر ۱۹۸۴ء تک یہ سلسلہ جاری رہا، قرآن کی اس ’’تفسیر بالرأی‘‘ کا پہلا دور۱۹۶۷ء میں مکمل ہوا اور پھر دوبارہ شروع کردیا تھا، غلام احمد پرویز اپنے دروس قرآن اپنی رہائش گاہ پر دیا کرتے تھے، یہ درس ہر جمعہ کو ہوا کرتا تھا اور باقاعدہ اس کی ویڈیو کیسیٹ بناکرتی تھی اور اب بھی جگہ جگہ ان ویڈیو کیسیٹس کے ذریعہ قرآنی دروس ہوتے ہیں، کراچھی میں پانچ مقامات پر ان کے دروس ہوتے ہیں، یہ دروس جمعہ کی شام کو ہوتے ہیں، مرکزی دفتر بھایانی سینٹر ناتھ ناظم آباد میں واقع ہے، جہاں کے انچارج اسلام صاحب ہیں، جو کہ آغاز ’’طلوع اسلام‘‘ سے پرویز کے شانہ بشانہ فتنہ انکارِ حدیث میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں، طلوع اسلام کا مرکزی صدر دفتر لاہو ہی میں ہے، غلام احمد پرویز کی رہائش گاہ ۲۵ڈی، گلبرگ۲، لاہور۱۱، میں ان کی تصانیف، مقالے اور وہ تمام مواد جو کہ انہوں نے مرتب کیا یا جس سے ان کے مسلک کے نظریات و عقائد کی تشریح ہوتی ہو موجود ہے اور اس تمام مواد کے ذخیرہ کو The Pervaiz Memorial Research Scholer Library کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔

اولاد: پرویز نے کوئی اولاد نہیں چھوڑی، لیکن ان کے قائمکردہ ادارے اور تصانیف کا مواد آج بھی مسلمانوں کو صحیح رخ سے پھیرنے اور حدیث، قرآن کے حقیقی معنی، اجماعِ امت اور علماء کی سرپرستی سے محروم کرکے قرؤن کو من پسند معنوی جامہ پہنانے میں مصروف عمل ہیں، اس میں طلوعِ اسلام کی بزمیں (جہاں ہفت روزہ درس ہوتے ہیں) مجلہ طلوع اسلام (ماہنامہ) ادارۂ طلوعِ اسلام۔

The Qurane The Pervaiz Memorial Research Eduvation Society The Quranic Research Center Scholar Library.

ویڈیو اور آڈیو کیسیٹس میں قرآنی دروس، پمفلٹس اور ان کی تصانیف شامل ہیں۔

’’طلوعِ اسلام‘‘ کے مقاصد

۱۹۳۸ء میں پرویز نے اپنے مقاصد کی اشاعت کے لئے رسالہ کا سہارا لیا اور الفاظ کا خوبصورت جامہ پہنا کر اپنے مقاصد کو مستور کرلیا، محدثین کی سالوں کی شبانہ روز محنت سے مرتب کئے گئے خزائنِ احادیث کو پرویز نے ایرانی اثرات اور جھوٹی روایات سے تعبیر کیا، دین میں انحراف پیدا کرنے کی کوشش کی اور اس کو نشاۃِ ثانیہ جیسا خوبصورت نام دیا، عوام الناس کو علماء کی سرپرستی سے محروم کرکے ان کو آزاد زندگی کے سبز باغ دکھائے کہ جس میں ہوائے نفسانی کا جامہ الفاظِ قرآن کو پہنا کر نیا دین پیش کیا گیا تھا، ادارہ طلوعِ اسلام کے قیام کے چیدہ چیدہ وہ مقاصد یہ تھے:

’’دینِ خالص کو ہزار سالہ روایتوں درایتوں اور ایرانی اثرات کی دبیز تہوں سے نکالا جائے اور روحِ قرآنی کو اس کی اصلی شکل میں پیش کیا جائے اور اسی مقصد کے پیش نظر اس رسالہ کا نام علامہ اقبال نے طلوعِ اسلام تجویز کیا تھا، اسلام نشاۃ ثانیہ کے لئے ماحول سازگار بنایا جائے، مذہبی پیشوائیت کی طرف سے جو بے بنیاد اور گمراہ کن پروپیگنڈہ تصورِ پاکستان اور بانئ پاکستان کے بارے پیش کیا جارہا تھا اس کا مدلل اور مؤثر جواب دیا جائے‘‘۔

قرآن کی تفسیر بالرائے

پرویز نے حدیث کی تکذیب کرتے ہوئے اپنی سوچ اور سمجھ سے قرآن کی تفسیر کی، عقل حیران ہے کہ صاحبِ کتاب مفہومِ کتاب کو زیادہ صحیح سمجھ سکتا ہے یا چودھویں صدی کا ایک لغاتِ قرآن سے نابلد شخص یہ دعویٰ کرے کہ نہیں قرآن تو کچھ اور کہتا ہے، مزید لکھتے ہیں:

’’میں اپنی بصیرت کے مطابق قرآنی فکر پیش کرتا ہوں، آپ کے لئے ضروری ہے کہ آپ از خود قرآن کریم پر غور و فکر کے بعد فیصلہ کریں کہ میری فکر صحیح ہے یا نہیں‘‘۔

وفات: علامہ غلام احمد پرویز کا انتقال ۲۴/ فروری ۱۹۸۵ء میں ہوا