عاشوراء اور محرم کے روزوں کی فضیلت

(رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: رمضان کے روزوں کے بعد سب سے افضل, الله کے مہینے محرم کے روزے ہیں

.صحیح مسلم 2755سنن ابوداؤد 2429سنن ابن ماجہ 1742 }-

 محرم 10  رسول الله صلى الله عليه وسلم سے عاشورہ 

( کے روزہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی الله عليه وسلم نے فرمایا: یہ گزرے ہوئے ایک سال کا کفارہ ہے. )

صحیح مسلم:2747 }-

جب رسول الله صلی الله عليه وسلم مدینہ تشریف لائے تو یہود کو عاشورا کے دن روزہ رکھتے دیکھا جب یہودیوں سے پوچھا گیا روزہ کیوں رکھتے ہو،تو انہوں نے کہا یہ وہ دن ہے کہ الله نے اس دن موسی )

علیه السلام

( اور بنى اسرائیل کو فرعون پر غلبہ دیا اس لیے ہم آج روزہ دار ہیں. تو آپ صلی الله عليه وسلم نے فرمایا: ہم تم سے زیادہ دوستہیں اور قریب موسی )

عليه السلام

(کے. پھر اس دن کے روزے کا حکم دیا.

صحیح مسلم 2656 جلد3 }-

سیدہ عائشہ رضی الله عنھا نے بیان کیاقریش عاشورے کے دن روزہ رکھتے تھے ایام جاہلیت میں اور رسول الله صلی الله عليه وسلم بھی. پھر جب آپ صلی الله عليه وسلم نے مدینہ کو ہجرت کی روزہ رکھا اور اس دن روزے کاحکم فرمایا پھر جب رمضان فرض ہواتو آپ صلی الله عليه وسلم نے فرمایا:

جو چاہے اب عاشورے کو روزہ رکھے جو چاہے چھوڑ دے.

صحیح مسلم2637 جلد3)-

جب رسول الله صلی الله عليه وسلم نے عاشوره )10

محرم

( کے دن کا روزہ رکھا اور حکم دیا اس کے روزے کا تو لوگوں نے عرض کی کہ یہود و نصاری اس کی تعظیم کرتے ہیں. فرمایا: جب اگلا سال آئے گا تو انشاء الله ہم 9 تاریخ کا)

بھی

( روزہ رکھیں گے. آخر اگلا سال نہآنے پایا کہ آپ صلی الله عليه وسلم نے وفات پائی.

صحیح مسلم 2666 جلد 3رسول الله صلی الله عليه وسلم نے فرمایا:

)میں الله کے ہاں

( عاشورے کے روزہ سے امید رکھتا ہوں کہ یہ گزرے ہوئے ایک سال کا کفارہ ہو جائے.

صحیحمسلم 2747 کا کچھ حصہ. جلد 3)-

رسول الله صلی الله عليه وسلم نے فرمایا: جس نے الله كے راستے میں ایک دن بھی روزہ رکھا تو الله اس كے چہرے کو جہنم سے ستر )

70( سال ( کی مسافت کے قریب ( دور کر دیتا ہے.

صحیح بخاری 2840 کتاب الصیام)-

نوٹ:

عاشورہ کے ساتھ 9محرم کا یا 11محرم کا یا 9, 10 اور 11محرم کا روزہ رکھیں

واللہ تعالیٰ اعلم