ایصال ثواب بدنی و مالی ہر دو عبادت کا کیا جاسکتا ہے؟

اھل سنت والجماعت کے نزدیک ہر قسم کی نفلی عبادت کا ثواب چاہے بدنی ہو یا مالی دوسرے کو پہنچایا جا سکتا ہے .

صحیح بخاری ومسلم اور ودیگر کتب حدیث وکتب فقہ میں یہ مسئلہ صاف اور واضح ہے…

حدیث شریف میں ہے

حضرت سعد بن عبادہ رض کی والدہ کا انتقال ایسے وقت میں ہوا کہ حضرت سعد رض موجود نہیں تھے

(جب غزوہ سے واپس آئے)

تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آکر عرض کیا کہ یا رسول اللہ میری عدم موجودگی میں میری والدہ کا انتقال ہوا، اگر میں انکی طرف سے صدقہ کردوں تو کیا وہ ان کے لئے فائدہ مند ہوگا

.(ان کو ثواب پہونچے گا؟)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں پہونچےگا

….(صحیح بخاری, معارف الحدیث از احکام میت)

البتہ فرض کا ایصال ثواب کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ اس میں اختلاف ہے

احسن الفتاوی میں ہے

____________

Read more…

____________

والراجح الجواز نقل فی الشامیہ عن البحر لا فرق بین الفرض والنفل و عن جامع الفتاوی قیل لا یجوز فی الفرائض

میت کو (ثواب) پہنچتا ہے؟

ہاں ضرور پہنچتا ہے کما مر…….

اور جو انکار کرتے ہیں جیسے معتزلہ ان کو پہونچانا بھی نہیں…..

گر نبیند بہ روز شب پرہ چشم.

چشمہ آفتاب را چہ گناہ ؟

ثواب متعدد میتوں کو پہنچایا جائے تو سب کو یکساں اور برابر پہنچتا ہے یا ایسا تقسیم ہوکر جیسا ۸ کو دو میں تقسیم کیا جاتا ہے؟

اس میں بھی دو قول ہے

1) ہر ایک کو تقسیم ہوکر پہنچتا ہے….

2) ہر ایک کو پورا پورا پہنچتا ہے وسعت رحمت کا یہی تقاضہ ہے.اور بعض شوافع اسی کے قائل ہیں…

علامہ رشید احمد گنگوہی رح فرماتے ہیں

میرے استاذوں کا قول ہے صحیح یہ ہے کہ ثواب تقسیم ہو کر پہنچتا ہے..نہ کہ سب کو پورا پورا، اور اس باب میں کوئ روایت حدیث کی صحیح نہیں

( فتاوی رشیدیہ)

کیا ایصال ثواب کرنے سے خود موصِل کو ثواب ملتا ہے؟ ملتا ہے تو کونسی نیکی کا؟

جی ہاں ملتا ہے

اس کے ثواب میں سے کوئ کمی نہیں کی جاتی

کیا زندہ کو ایصال ثواب کیا جاسکتا ہے؟

جی ہاں زندوں کو بھی ایصال ثواب کیا جا سکتا ہے ……..

کما فی کتاب الفتاوی وغیرہ…

واللہ تعالی اعلم وعلمہ اتم واحکم