قرآن کریم میں جھاد اور قتال کی آیتوں کو تبلیغ کے کام پر چسپاں کر سکتے ہے؟ 

سوال:

قرآن کریم میں جھاد اور قتال کی آیتوں کو تبلیغ کے کام پر چسپاں کر سکتے ہے؟

بحوالہ مدلل سیر حاصل بحث فرمائیں …..

الجواب و باللہ التوفیق و بہ استعین

جواب سے پہلے تمہیدی طور پر چند باتیں سمجھ لیں.

پہلی بات:

جھاد بمعنی قتال نماز، روزہ، زکوة، اور حج کی طرح شریعت کا ایک مستقل فریضہ اور حکم ہے.

دوسری بات:

عموماً ہر لفظ کے لغوی و اصطلاحی معنی ہوا کرتے ہیں، قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے جو احکام مسلمانوں پر فرض فرمائے ہیں وہ “اصطلاحات” ہیں۔

وہ الصلوٰة ہو یا الصوم، الحج ہو یا الزکوة و الجہاد اور اسی طرح دیگر شرعی اصطلاحات۔یہ الفاظ اب اپنی لغوی تعبیرات سے ہٹے ہوئے ہیں اور ان سب کے اصطلاحی و شرعی معنی متعین ہیں۔ اور احکام ، فضائل، مسائل ، وعیدیں سب کا تعلق اسی اصطلاحی معنی سے ہے نہ کہ لغوی معنی سے۔

امت مسلمہ کا اس بارے میں کوئی اختلاف بھی نہیں۔

تیسری بات:

قرآن میں اگر کسی مخصوص لفظ کو اس کے اصطلاحی معنی سے ہٹ کر لغوی معنی میں استعمال کیا جائے تو اس کو مجاز پر محمول کیا جائے گا، اگرچہ وہ (معنیء مستعمل فیہ) اس لفظ کا حقیقی اور لغوی معنی ہی کیوں نہ ہو.

چوتھی بات:

جھاد کے اصطلاحی معنی متعین ہوجانے کے باوجود صرف یہی ایک ایسا لفظ ہے کہ جس کے عمومی استعمال کا مسئلہ امت میں مختلف فیہ بن گیا ہے.

پانچویں بات:

چونکہ یہ مسئلہ (بظاہر) اجتھادی اور مختلف فیہ بن چکا ہے اور دونوں طرف دلائل موجود ہے اس لیے ہم دونوں طرف کے دلائل ذکر کریں گے، البتہ ہمارے نزدیک جو رائے راجح ہے اس کے دلائل مالہ و ماعلیہ کے ساتھ آخر میں بیان کریں گے، اور مرجوح رائے کے دلائل پہلے درج کریں گے.

فریق اول

دعوی:

آیات جھاد و قتال کو تبلیغ اور دیگر اعمال خیر پر منطبق کرنا درست ہے.

دلائل

1 لغت اور نصوص، جھاد کو قتال کے ساتھ مخصوص نہیں کرتے، اصل جھاد، اعلاء کلمة اللہ کی سعی ہے، جس کا درجہء مجبوری اور آخری درجہ قتال بھی ہے

قرآن پاک میں ہے

واللذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا

2 حدیث پاک میں ہے المجاھد من جاھد نفسہ

3 نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک غزوہ سے واپسی کے وقت ارشاد فرمایا “رجعنا من الجھاد الاصغر الی الجھاد الاکبر” اور ظاہر ہے یہ یہاں جھاد اکبر کا مصداق جھاد بالسیف اور جھاد بالکفار نہیں ہے، اس میں یہ بھی ہے کہ علامہ باجی نے لکھا ہے کہ “سبیل اللہ” کا لفظ تمام نیکیوں کو شامل ہے.

4 امام بخاری رحمہ اللہ نے جمعہ کی نماز کے لیے پاؤن چلنے پر باب المشی الی الجمعة میں حضرت ابو عبس رضی اللہ عنہ کی حدیث ذکر فرمائی ہے “من اغبرت قدماہ فی سبیل اللہ حرم اللہ علی النار” اگر امام بخاری رح اس حدیث سے کو جمعہ کی نماز کے لیے پیدل چلنے کی فضیلت پر استدلال کرسکتے ہیں تو پھر اگر مبلغین اللہ کے راستے میں اعلاء کلمة اللہ کی خدمت کے لیے پاؤں چلنے پر اس حدیث سے استدلال کریں تو ان پر کیا الزام ہے؟

5 حضرت مولانا الیاس صاحب رحمہ اللہ اپنے ایک ملفوظ میں فرماتے ہیں:

“یہ سفر (یعنی سفر تبلیغ) غزوات ہی کے سفر کے خصائص اپنے اندر رکھتا ہے، اور اس لیے امید بھی ویسے ہی اجر کی ہے، یہ اگرچہ قتال نہیں ہے مگر جھاد ہی کا ایک فرد ضرور ہے جو بعض حیثیات سے اگرچہ قتال سے کمتر ہے، مگر بعض حیثیات سے اس سے بھہ اعلی ہے، مثلاً قتال میں شفاء غیظ اور اطفاء شعلہء غضب کی صورت بھی ہے اور یہاں اللہ کے لیے صرف کظم غیظ ہے اور اس کے دین کے لیے لوگوں کے قدموں میں پڑکے اور ان کی منتیں، خوشامدیں کرکے بس ذلیل ہونا ہے”(ملفوظات).

6 خود نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے جھاد کا اطلاق قتال کے علاوہ دوسرے امور پر بھی (جو اس مقصد میں معین و مددگار ہوں) کثرت سے کیا گیا ہے، جو اہل علم سے مخفی نہیں.

۱ـ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اسلامی سرحد پر ایک رات جاگنا دنیا اور دینا کی سب چیزوں سے افضل ہے.

۲ـ نیز فرمایا کہ جو شخص کسی غازی کی سامان سے مدد کرے وہ بھی غازی ہے اور جو اس کی غَیبت میں اس کے گھر والوں کی خبر گیری کرے وہ بھی غازی ہے.

۳ـ اور فرمایا: ہر دو آدمیوں میں سے ایک نکلے تو ثواب دونوں میں مشترک ہوگا.

(یہ دلیل کمزور ہے، اس لیے کہ جو چیز قتال میں معین و مددگار ہو وہ بھی قتال ہی کا ایک فرد ہے [جیسا کہ آگے آرہا ہے] لھذا یہ کہنا “کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی جھاد کا اطلاق قتال کے علاوہ دیگر اعمال خیر پر کیا” محل نظر ہے.۱۲ ابو عمر )

7 انما الصدقات للفقراء الآیة اس آیت کی تفسیر میں صاحب بدائع فرماتے ہیں کہ فی سبیل اللہ سے مراد جملہ امور خیر ہے، اس میں ہر وہ سعی داخل ہے جو اللہ کی طاعت کے بارے میں ہو.

8 تفسیر مظھری میں مثل الذین ینفقون اموالھم فی سبیل اللہ کی تفسیر میں “الجھاد و غیر ذلک من ابواب الخیر” ہے.

میرا (حضرت شیخ زکریا رحمہ اللہ ) مقصود اس تحریر کے نقل کرنے سے یہ ہے کہ جو لوگ خروج فی سبیل اللہ کو صرف جھاد معروف کے ساتھ مخصوص قرار دیتے ہیں ان کے لیے تنبیہ ہے کہ فی سبیل اللہ کا لفظ جھاد معروف کے ساتھ مخصوص نہیں.

بہرحال اس سیاہ کار (حضرت شیخ) کے نزدیک تو خروج فی سبیل اللہ کی آیات و احادیث میں یہ لوگ اپنے تبلیغی اسفار کو داخل کریں تو نہ کوئی اشکال ہے نہ تردد ہے.

(ھذا ملخص ما فی کتاب “جماعت تبلیغ پر اعتراضات کے جوابات”صـــ ۲ تا صـــ ۸ )

9 نیز فی سبیل اللہ کے مصداق کے متعلق دار العلوم دیوبند کا ایک فتوی بھی ملاحظہ ہو:

“اللہ کا راستہ” کا کیا مطلب ہے؟ برائے کرم ان کاموں کی لسٹ مہیا کریں جو کہ اللہ کے راستہ کے تحت آتی ہیں، مثلاً علم حاصل کرنے کے لیے جانا ?اللہ والا علم? حج، وغیرہ؟

فتوی(ھ):

ادائیگی حقوق اللہ وحقوق العباد کی خاطر جد وجہد کرنا اور اس سلسلہ میں وجوہِ خیر کو اختیار کرنا نیز گناہوں سے بچنے کی تمام صحیح صورتیں فی سبیل اللہ (اللہ کے راستہ) کا مصداق ہیں۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند

0 1 مفتی محمود الحسن گنگوہی رح فرماتے ہیں:

فضائل جھاد کی حدیثوں کو تبلیغ پر چسپاں کیا جاتا ہے تو یہ بات صحیح ہے اور اس کی وجہ جو عام فہم ہے وہ یہ ہے کہ یہاں دو چیزیں ہیں،

ایک خدا کی راہ میں دشمنان اسلام سے قتال کرنا، عامةً اسی کو جھاد کہا جاتا ہے اس کی فضیلتیں مستقل ہیں اور وہ بہت ہی اعلی ہیں،

دوسری چیز خدا کے دین کے لیے کوشش کرنا اگرچہ اس میں قتال کی نوبت نہ آئے، قرآن و حدیث کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھی جھاد ہے(کما مر ۱۲ ابو عمر)

دوسرے غور کیا جائے کہ قتال سے مقصود اصلی خوں ریزی نہیں بلکہ دین کا فروغ مقصود ہے اور قتال بالسیف کی ضرورت وہاں پیش آتی ہے جہاں دین کے فروغ میں ایسی رکاوٹ پیش آجائے جو بغیر قتال بالسیف کے دور نہ ہوسکے، ..

لھذا جو اجر و ثواب وسیلہ پر ہے اس سے زیادہ اجر و ثواب اصل مقصود پر ہونا بالکل ظاہر ہے.

(مفتی محمود گنگوہی رح اور جماعت تبلیغ صــ ۷۸ تا صــ ۸۰)

فریق ثانی

دعوی:

آیات جھاد و قتال کو جھاد کے علاوہ دوسرے کسی امر خیر پر حقیقیةً منطبق کرنا درست نہیں، البتہ مجازًا دیگر اعمال خیر کے لیے جھاد کا اطلاق ایک حد تک درست ہے.

دلائل

1 جھاد و مجاھدہ، فی سبیل اللہ اور جھاد فی سبیل اللہ:

مفتی سعید صاحب پالنپوری دامت برکاتہم فرماتے ہیں:

جھاد قرآن و حدیث کی ایک خاص اصطلاح ہے، اس کے معنی ہیں: دین کی حفاظت اور سربلندی کے لیے دشمنان اسلام سے لڑنا ـ

جاھد العدو مجاھدةً و جھادًا کے معنی ہے دشمن سے لڑنا، اور جاھد فی الامر: کے معنی ہیں: کسی کام میں پوری طاقت لگانا، پوری کوشش کرنا، اسی سے مجاھدہ ہے.

قرآن و حدیث میں یہ لفظ مختلف طرح استعمال کیا گیا ہے:

(۱)کہیں صرف جھاد اور مجاھدہ آیا ہے،

(۲)کہیں اس کے ساتھ فی سبیل اللہ آیا ہے،

(۳)کہیں اس کے بعد اللہ یا اللہ کی طرف لوٹنے والی ضمیر آئی ہے،

اسی طرح فی سبیل اللہ بھی کبھی تنہا آیا ہے اور کبھی جھاد کے مادہ کے ساتھ آیا ہے،

پس جہاں مجاھدہ کا مادہ مطلق آیا ہے یا اس کے بعد فی اللہ یا فینا آیا ہے وہ آیتیں عام ہیں، مفسرین کرام ان جگہوں میں لفظ دین محذوف مانتے ہیں جیسے جاھدوا فی اللہ حق جھادہ: اللہ کے دین کے لیے پوری طاقت خرچ کرو، والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا: جو لوگ ہمارے دین کے لیے انتہائی کوشش کرتے ہیں، ہم ان کو اپنی راہیں سجھاتے ہیں، یہ آیات پاک دین کی ہر محنت کے لیے عام ہیں لیکن جہاں لفظ جہاد آیا ہے یا مجاھدہ کے مادہ کے ساتھ فی سبیل اللہ آیا ہے یا صرف فی سبیل اللہ آیا ہے جیسے مصارف زکوة کے بیان میں، اور انفاق کی فضیلت کی آیت میں، وہاں خاص اصطلاحی معنی مراد ہے، اگرچہ حضرت تھانوی قدس سرہ نے انفاق والی آیت کو عام رکھا ہے لیکن مصارف زکوة کی آیت میں جو فی سبیل اللہ آیا ہے، وہاں مفتی بہ قول یہ ہے کہ اس کا مصداق منقطع الغزات ہیں یعنی وہ مجاھدین مراد ہیں جو دشمنان اسلام سے لڑنا چاہتے ہیں مگر ان کے پاس اسباب نہیں .

اگرچہ امام محمد رح کے نزدیک منقطع الحاج آیت کا مصداق ہے مگر فتوی امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول پر ہے

بہرحال جہاں لفظ جھاد آیا ہے یا مجاھدہ کے مادہ کے ساتھ فی سبیل اللہ آیا ہے، وہاں خاص اصطلاحی معنی مراد ہیں.

سورة التوبة میں جہاں بھی اس قسم کی آیت آئی ہے وہاں حضرت شاہ عبد القادر دہلوی قدس سرہ نے اور ان کی اتباع میں شیخ الھند رحمہ اللہ نے “لڑنا” ترجمہ کیا ہے، اور حدیث کی کتابوں میں جو ابواب الجھاد اور ابواب فضائل الجھاد آتے ہیں وہاں بھی یہی خاص اصطلاحی معنی مراد ہوتے ہیں، چنانچہ ترمذی وغیرہ میں جب ابواب الجھاد شروع ہوتے ہیں تو فورًا ذھن خاص معنی ہی کی طرف سبقت کرتا ہے، اور کسی لفظ کو سن کر ذھن کا کسی معنی کی طرف سبقت کرنا: دلیل ہوتی ہے کہ وہی لفظ کے حقیقی معنی ہیں ـ

بلکہ جب لفظ جھاد بولتے ہیں تو مسلمانوں ہی کا نہیں غیر مسلموں کا بھی ذھن اسی خاص معنی کی طرف جاتا ہے، لیکن کچھ لوگوں نے ان آیات کو عام کردیا ہے، اور عام نہیں کیا بلکہ اپنے کام کے لیے خاص کردیا ہے، وہ اپنے کام ہی کو جھاد کہتے ہیں، دوسرے دینی کاموں کو جھاد نہیں کہتے، اور جب انہوں نے اپنے کام کو جھاد قرار دیدیا تو جھاد کے فضائل میں جو آیات پاک اور احادیث شریفہ آئی ہیں، ان کو اپنے کام پر منطبق کرتے ہیں، ان کی یہ رائے صحیح نہیں، جھاد ایک اسلامی اصطلاح ہے، جب قرآن و حدیث میں یہ لفظ بولا جاتا ہے تو اس سے مراد قتال فی سبیل اللہ ہوتا ہے.

البتہ بعض کاموں کو جھاد کے ساتھ لاحق کیا گیا ہے، مگر ان کے لیے یہ الحاق ہی فضیلت ہے، جیسے حدیث میں ہے: “من خرج فی طلب العلم فھو فی سبیل اللہ حتی یرجع” اس حدیث میں طلب علم کو “فی سبیل اللہ” قرار دیا ہے، یہ الحاق طالب علم کی فضیلت ہے، اسی طرح دعوت و تبلیغ کے کام کو فی سبیل اللہ کے ساتھ لاحق کیا جا سکتا ہے، اور یہ الحاق ہی اس کی فضیلت ہوگی.

قرآن و حدیث میں فضائل جھاد کی جو آیتیں اور حدیثیں ہیں وہ سب فضیلتیں نہ طالب علم پر منطبق کی جاسکتی ہیں نہ تبلیغ والوں پر، یہ خاص بات یاد رکھنی چاہیے.

تحفة القاری شرح بخاری کتاب الایمان، باب الجھاد من الایمان، جـــــــ۱ صـــــــ ۲۵۵،۲۵٦

لھذا احادیث مبارکہ میں وارد کسی بھی عمل پر ارکان اسلام یا جہاد فی سبیل اللہ کے مثل ثواب کے بیان کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ رکن یا فرض اُس عمل کے کرنے کی وجہ سے ادا ہوگیا بلکہ اس عمل کے ساتھ الحاق ہی اس کی فضیلت ہے، مثلاً ماں باپ کو ایک دفعہ شفقت بھری نگاہ سے دیکھنے پر حج کے مثل،اور طلوع آفتاب کے کچھ دیر بعد دو رکعت کی ادائیگی پر کامل حج و عمرہ کے مثل ثواب بیان کیا گیا ہے،

لیکن یہ عمل کرنے سے حج کی ’’فرضیت‘‘اپنی جگہ برقرار رہتی ہے اور اس کی فرضیت میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا اور ناہی حج کے سارے فضائل اشراق کی نماز پر منطبق کیے جائیں گے اور ناہی اس کو حاجی صاحب کہا جائے گا ۔اسی طرح کسی بھی عمل پر اگر جہاد فی سبیل اللہ جیسا ثواب بیان کیا گیا ہو تو اس کو اختیار کرنے سے کسی شخص سے جہاد کی ’’فرضیت ‘‘ساقط نہیں ہوجائے گی اور اگر کوئی شخص ان ارکان یا فرائض سے غفلت برتے اور ان کی ادائیگی کے بجائے وہ اعمال جن پر ان فرائض کی ادائیگی کے مثل ثواب بتلایا گیا ہے ،اُن ہی پر عمل کو کافی سمجھے تو اس بات کا شدید اندیشہ ہے کہ ان فرائض کی عدم ادائیگی کے نتیجے میں اُن اعمال(مثلاًماں باپ کو شفقت سے دیکھنے اور اشراق ادا کرنے )پر ملنے والا ثواب بھی ضائع ہوجائے بلکہ ان فرائض کے تارک ہونے کی صورت میں اللہ تعالیٰ کے عتاب وعذاب کامستحق ٹہرے ۔

2 حدیث: یزید ابن مریم کہتے ہیں: عبایہ بن رفاعہ پیچھے سے آکر مجھ سے ملے، میں نماز جمعہ کے لیے جا رہا تھا، انھوں نے کہا: خوشخبری سن لو! آپ کے یہ قدم یہ راہ خدا میں ہیں، میں نے حضرے ابو عبس انصاری رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی ہے کہ جس کے قدم راہ خدا میں گرد آلود ہوں وہ جھنم پر حرام ہیں.

اس حدیث کی تشریح میں مفتی سعید احمد پالنپوری دامت برکاتہم فرماتے ہیں:

حضرت رفاعہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے عبایہ تابعی ہیں، اور تابعین کے بھی دوسرے طبقے کے ہیں، ان کی کوئی علمی شہرت بھی نہیں ہے، انھوں نے فی سبیل اللہ کو عام کیا ہے، تمام دینی کاموں کو اور امور خیر کو اس کا مصداق قرار دیا ہے، چنانچہ یزید جو جمعہ کی نماز پڑھنے جا رہے تھے، ان کے عمل کو فی سبیل اللہ قرار دیا ہے.(اس سلسلے میں تفصیلی گفتگو اوپر ہوچکی ہے)

ایک اہم دلچسپ مکالمہ

میری (مفتی سعید احمد) اس موضوع پر حضرت مولانا محمد عمر پالنپوری صاحب قدس سرہ سے گفتگو بھی ہوئی ہے اور. مکاتبت بھی ہوئی ہے، حضرت کا موقف یہ تھا کہ ہمارا کام بھی جھاد ہے، حضرت نے ایک خط میں اپنی دلیل کے طور پر ترمذی شریف کی یہی روایت مجھے لکھی تھی عبایہ نے مسجد میں جانے کو فی سبیل اللہ کا مصداق ٹھرایا ہے، پھر دعوت و تبلیغ کا کام اس کا مصداق کیوں نہی‍ں ہوسکتا؟ میں نے جواب لکھا کہ اول تو عبایہ صحابی نہیں ہیں، صحابہ کے اقوال حنفیہ کے یہاں حجت ہی‍ں، اور تابعین کے بارے می‍ں خود امام اعظم رحمہ اللہ نے فرمایا ہے: ھم رجال و نحن رجال، یعنی ان کے اقوال ہم پر حجت نہیں، اگر کسی صحابی نے اس اصطلاح کو عام کیا ہوتا تو بات بھی تھی.

(لیکن اس جواب پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ یہی بات بعینہ بخاری میں حضرت ابو عبس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جو کہ صحابی رسول ہیں، اس کے جواب میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے یہ بات نبی علیہ السلام سے سنی ہو، لھذا کوئی اشکال نہیں ـ۱۲ ابو عمر )

ثانیًا: دعوت و تبلیغ ہی اس کا مصداق کیوں؟ آپ اگرچہ “ہی” استعمال نہیں کرتے، “بھی” کہتے ہی‍ں، مگر تبلیغی جماعت کے عوام نے اس “بھی” کو “ہی” سے بدل دیا ہے، یعنی وہ اپنے ہی کام کو جھاد کہتے ہیں، بلکہ وہ حقیقی جھاد کو بھی شاید جھاد نہیں مانتے، جھاد کے فضائل ان کے نزدیک دعوت و تبلیغ میں منحصر ہی‍ں.

ثالثا:ً دیگر دینی کام کرنے والے: مثلاً تعلیم و تدریس میں مشغول اور تصنیف و تالیف میں منھمک لوگ اپنے کام کے لیے فی سبیل اللہ اور جھاد والے فضائل ثابت نہیں کرتے، پھر تبلیغی جماعت ہی یہ روایات کیوں استعمال کرتی ہے؟

7 “درس ترمذی” میں ہے:

اس کے علاوہ ایک اور غلط فہمی…. اچھے خاصے دینداروں میں پائی جاتی ہے، اور اب وہ غلطی رفتہ رفتہ ہماری تبلیغی جماعت کے حضرات میں سرایت کر رہی ہے، اس لیے اس کی بھی وضاحت کرنا چاہتا ہوں ـ

وہ غلط فہمی یہ ہے کہ جھاد صرف اس وقت اور اس قوم سے مشروع ہے جب کوئی قوم دعوت کے راستے میں رکاوٹ بنے، گویا کہ اصل مقصود “دعوت” ہے اور اس دعوت کے پھیلانے کے راستے میں اگر کوئی ملک آڑے آئے اور اپنے ملک میں دعوت و تبلیغ کی اجازت نہ دے تب جھاد مشروع ہے، لیکن اگر کوئی ملک اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ ہمارے یہاں آکر دعوت کا کام کرو ……تو پھر ان کے ساتھ جھاد مشروع نہیں ـ یہ وہ بات ہے جس کو پہلے صرف متجددین کہا کرتے تھے، اب اچھے خاصے پڑھے لکھے دیندار حضرات اور تبلیغی جماعت کے حضرات نے بھی کہنی شروع کردی ہے ـ

اور اب سے پہلے تو لوگوں سے صرف زبانی سنا تھا لیکن باقاعدہ اس بارے میں تحریر دیکھ لی ہے تب یہ بات کہہ رہا ہوںـ یہ بات جھاد کی حقیقت نہ سمجھنے کے نتیجے میں کہی گئی ہے ـ

واقعہ یہ ہے کہ صرف اتنی بات کہ کسی کافر حکومت نے اپنے ملک میں ہمیں تبلیغ کی اجازت دے دی ہے اس لیے اب ہمیں اس کے خلاف جھاد نہیں کرنا چاہیے ـ یہ بڑی خطرناک بات ہے. اس لیے کہ محض تبلیغ کی اجازت دے دینے سے جھاد کا مقصد پورا نہیں ہوتا ـ اس لیے کہ جھاد کا مقصد کفر کی شوکت کو توڑنا ہے اور اللہ کے کلمے کو بلند کرنا ہے، اور جب تک کفر کی شوکت برقرار رہے گی اس وقت تک حق کو قبول کرنے کے لیے لوگوں کے دل و دماغ نہیں کھلیں گے ـ

اس لیے کہ یہ اصول ہے کہ جب کسی قوم کی سیاسی طاقت اور اس کا اقتدار لوگوں کے دل و دماغ پر چھایا ہوا ہوتا ہے، اس قوم کی بات لوگوں کو جلدی سمجھ آجاتی ہے اور اس کے مخالف بات لوگوں کے دلوں میں آسانی سے نہیں اترتی

لھذا یہ کہنا کہ اگر کسی ملک نے تبلیغ کی اجازت دے دی تو اب جھاد کی ضرورت نہیں رہی اور اب جھاد کا مقصود حاصل ہوگیا، تو یہ بہت بڑا دھوکہ ہے ـ

درس ترمذی جــ ۵ صــ ۲۰٦

(اس سلسلے میں اور بھی بہت سی باتیں حضرت نے ذکر کی ہیں، شائقین حضرات درس ترمذی جلد پنجم کا مطالعہ فرمائیں )

یہاں تک دونوں فریق کے مختصر دلائل مکمل ہوچکے.

اب آپ حضرات کی خدمت میں چند معروضات پیش کرنی ہے

چونکہ یہ مسئلہ(آیات جھاد کو تبلیغ پر چسپاں کرنا) اجتھادی بن چکا ہے اور دونوں طرف اکابرین کی آراء موجود ہے اس لیے ہم دونوں کو بموجب حدیث حق پر اور ماجور سمجھتے ہوئے، ہر ایک کا احترام کرتے ہیں، اذا اصاب المجتھد فلہ اجران واذا اخطأ فلہ اجر.

تمام دینی کاموں میں غلو اور تحریف سے بچنا چاہیے.

پوری بحث سے اتنی بات تو اتفاقی اور اجماعی طور پر ثابت ہوگئی کہ جھاد کا حقیقی، اصطلاحی اور شرعی مصداق قتال فی سبیل اللہ ہے، اور باقی تمام اعمالِ خیر بشمول تبلیغی جماعت ان پر جھاد کا اطلاق مجازًا ہوتا ہے.

لھذا جہاں پر صحابہ رضی الله عنھم با قاعدہ قتال میں بھیجے گئے تھے وہاں یہ کہنا “کہ وہ جماعت میں گئے تھے؟”

جیسے وفات سے پہلے اسامہ بن زید کو اللہ تعالیٰ کے نبی صلی اللّٰہ علیه وسلم نے جماعت میں بھیجا تھا

اور ایسے ہی حضرت ابو بکر صدیق نے اپنی خلافت میں پورے مدینہ کو خالی کر دیا اور سب کو جماعت میں بھیج دیا وغیرہ وغیرہ

ایسے جملے کہنا درست نہیں ہے،

اس لیے کہ لفظ “جماعت” سے یہ وہم ہوتا ہے کہ صحابہ بھی بعینہ اسی طرز پر تبلیغی جماعت میں گئے تھے،

بلکہ عوام کے ذھن میں تو یہ بات راسخ ہوچکی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین اسی طرز پر دعوت اور جھاد کا کام کرتے تھے. حالانکہ یہ واقعہ کے خلاف ہے، اس لیے اس طرح کی تعبیرات سے احتراز کرنا چاہیے.

دیگر اعمال خیر کی طرح دعوت و تبلیغ اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے بھی مستقل بے شمار فضائل و احکام اور ترک پر کئی وعیدیں ہیں، ہمیں چاہیے کہ ترغیب و ترہیب میں انہیں نصوص کا سہارا لیں، ان شاء اللہ امت کو دعوت کے کام پر ابھارنے اور ترک دعوت سے ڈرانے میں وہ کافی شافی ہوں گی، لان فیھا ما یغنینا عن غیرھا.

دعوت کے کام (خواہ وہ کسی بھی شکل میں ہو، مروجہ تبلیغی جماعت کی شکل میں ہو، یا پھر کسی بھی انفرادی و اجتماعی دعوت کی شکل میں ہو، بہرحال اس کام) میں آیات جھاد سے رہنمائی ضرور لی جاسکتی ہے، اور ان آیات کی روشنی میں اپنے کام کو آگے بڑھایا جاسکتا ہے، چنانچہ اسی مقصد کے پیش نظر حضرت جی مولانا یوسف صاحب نور اللہ مرقدہ نے احباب کے لیے حیاة الصحابہ تالیف فرمائی تھی،

البتہ اس میں اس بات کا خیال رہے کہ نصوص کی بے جا تاویلیں نہ کی جائے، اور ان میں کسی طرح کی تحریف اور غلو نہ کیا جائے، ہاں!!! رہبری ضرور حاصل کیجیے.

اللہ ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے. آمین

البتہ ایک دوسرے خط میں حضرت مولانا محمد عمر رح نے یہ عقلی دلیل لکھی تھی کہ فی نفسہ جھاد حسن لغیرہ ہے،اور دعوت و تبلیغ کا کام فی نفسہ حسن لعینہ ہے، پس جو فضیلت اور ثواب حسن لذاتہ کا ہے وہ حسن لغیرہ کا کیوں نہیں؟ ـ میں نے جواب میں عرض کیا: کہ یہ ثواب میں قیاس ہے، اس لیے معتبر نہیں، کیونکہ قیاس احکام شرعیہ میں چلتا ہے، دیگر امور توقیفی ہیں، یعنی ان کے لیے نص چاہیے، نیز اجر بقدر مشقت ہوتا ہے، اور یہ بات اللہ ہی بہتر جانتے ہیں کہ کس کام میں کتنی مشقت ہے اور کس کام کا کتنا ثواب ہونا چاہیے؟ بندے یہ بات نہیں جان سکتے، اور یہاں تو بات بدیہی ہے، جھادِ اصطلاحی کی مشقت کے پاسنگ کو بھی مروجہ تبلیغی کام نہیں پہنچ سکتا، پھر وہ اجر و ثواب اور وہ فضائل اس کام کے لیے کیسے ہوسکتے ہیں؟اور آج تک یہ روایات کسی نے بھی دیگر کاموں کے لیے بیان نہیں کیں.

ملحوظہ: ان باتوں کو دعوت و تبلیغ کی مخالفت پر محمول نہ کیا جائے.

ملخص از تحفة الالمعی، ابواب فضائل الجھاد، جـــ ٤ صـــــ ۵٦٦ ،۵٦۳،۵٦٤،۵٦۵.

3 رسول اللہ ﷺکی زبانی ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ کا مصداق:

حضورﷺکی زبانِ مبارک سے جہاد کی تعریف سن لیجئے:

__________________________

Read More..

__________________________

۱ـ

((قال فای الھجرة افضل؟ قال: الجھاد، قال: وما الجھاد؟ قال: ان تقاتل الکفار اذا لقیتھم، ولاتغل ولا ﺗﺠﺒﻦ))

’’(ایک)صحابی نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ!سب سے افضل ہجرت کون سی ہے؟حضور ﷺنے فرمایا کہ بہترین ہجرت جہاد کی ہجرت ہے۔صحابی نے پوچھا کہ جہاد کیا چیزہے؟حضور ﷺنے فرمایا کہ:’’جہاد یہ ہے کہ تم بوقت مقابلہ کفار سے لڑو اور اس راستے میں خیانت نہ کرواور نہ بزدلی دکھاؤ‘‘۔

کنزالعمال ،ج:۱،ص:۷۲۔مجمع الزوائد،ج:۱،ص:۵۹ و رجالہ ثقات۔

۲ـ

((قیل: وما الجھاد؟ قال: ان تقاتل الکفار اذا لقیتھم ـ قیل: فای الجھاد افضل؟ قال: من عقر جوادہ و اھریق دمہ.))

’’پوچھا گیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ!جہاد کیا چیز ہے؟ حضور ﷺنے فرمایا کہ جہاد یہ ہے کہ تم مقابلے کے وقت کفار سے لڑو، کہا گیا افضل ترین جہاد کون سا ہے ؟حضور ﷺنے فرمایا کہ اس شخص کا جہاد جس کا گھوڑا کٹ مرے اور خود اس کا بھی خون گرجائے(یعنی وہ شہید ہوجائے)‘‘۔

مسند احمد،ج:۳۴،ص:۳۹۷،رقم الحدیث:۱۶۴۱۳۔ کنز العمال ج:۱،ص:۲۷ورجالہ ثقات۔

۳ـ

((من قاتل لتکون کلمة اللہ ھی العلیا فھو فی سبیل اللہ))

’’جس نے جنگ کی اس لئے کہ اللہ ہی کا کلمہ بلند ہوجائے تو وہ ہی ہے اللہ کی راہ میں ‘‘۔

صحیح البخاری،ج:۱،ص:۲۰۹،رقم الحدیث:۱۲۰۔صحیح مسلم،ج:۱۰،ص:۶،رقم الحدیث:۳۵۲۵۔

4جہاد کا بیانیہ

بیانیوں کی بھرمار کا دور ہے اور جدید بیانیوں میں سب سے اہمیت کے ساتھ جو مسئلہ اٹھایا جارہا ہے وہ یہ “جہاد” کا ہے۔

ضروری ہے کہ جہاد کا وہ بیانیہ اس وقت امت کے سامنے رکھا جائے جو صدیوں سے متفق علیہ چلا آرہا ہے۔احکام اسلام میں جہاد وہ حکم ہے جس کے باب میں فقہی اختلافات دیگر احکام کی نسبت بہت کم ہیں۔اسکے اکثر معاملات اجماعی ہیں۔وجہ اسکی یہ ہے کہ جہاد کا حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر عمر مبارک کے آخری دس سالوں میں نازل ہوا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کم از کم ۲۷/بار خود صحابہ کرام کی جماعت کے ساتھ نکلے، ہر غزوے میں ایک کثیر جماعت ہمرکاب رہی، جسکی تعداد بعض اوقات دس ہزار سے بھی متجاوز رہی، اس طرح جو عمل بھی نقل ہوا تواتر سے ہوا۔

احکام جہاد جدلی انداز میں نازل ہوئے اسلئے سب کو یاد رہے، جہاد کے باب میں جو کوتاہی کسی سے سرزد ہوئی اس پر قرآن نازل ہوگیا اور بات محفوظ ہوگئی۔

اسلئے اگلے زمانوں میں بھی اسکی تعبیر و تشریح اور کلیات وجزئیات متفق علیہ رہے۔تبدیلی کی ہوائیں کافی آگے جاکر چلیں اور جہاد اکبر واصغر، حسن لعینہ و حسن لغیرہ جیسے مسائل اٹھے، مگر امت کا تعامل ہمیشہ ان رجحانات کی نفی کرتا آیا۔

یہ پہلا موقع ہے کہ اس حکم شرعی پر چو طرفہ یلغار ہے اور غامدی بیانیے کے ذریعے معنی، حکم، شرائط اور اہداف ومقاصد سب بدلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔اسلئے ضروری ہے کہ ان ساری چیزوں کا اصل اسلامی مصداق سامنے رکھا جائے۔

جہاد کے معنی سے متعلق اسلامی بیانیہ ملاحظہ ہو:

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے جو احکام مسلمانوں پر فرض فرمائے ہیں وہ “اصطلاحات” ہیں۔

وہ الصلوٰۃ ہو یا الصوم، الحج ہو یا الزکوۃ و الجہاداوراسی طرح دیگر شرعی اصطلاحات، یہ الفاظ اب اپنی لغوی تعبیرات سے ہٹے ہوئے ہیں، لیکن ان سب کے معنی متعین ہیں۔ اور احکام ، فضائل، مسائل ، وعیدیں سب کا تعلق اسی معنی سے ہے۔

امت مسلمہ کا اس بارے میں کوئی اختلاف بھی نہیں۔

مگر ’’جہاد‘‘ کے بارے میں بعض لوگوں نے ایک الگ سے رائے قائم کرلی ہے اور آج کل پھر اس کا پر چار زوروں پر ہے۔

ان حضرات کا خیال ہے کہ ’’ جہاد ‘‘ کے کوئی ایک معنی متعین نہیں ہیں بلکہ محنت اور مشقت والے ہر کام کو چونکہ ’’ جہاد ‘‘ کہا جا سکتا ہے اس لئے ہر وہ ایسا کام کر لینے سے فریضہء جہاد ادا ہو جاتا ہے اور فضائل بھی مل جاتے ہیں۔

کیا واقعی ایسا ہے؟؟

محکم اور پختہ شرعی اصولوں کی رو سے ہرگز نہیں۔ ہاں ’’بہانے‘‘(یابیانیے)کی حد تک یہ بات درست ہے اور ’’ جہاد ‘‘ کے باب میں بہانے بنانے والوں کے ذکر سے قرآن مجید بھرا ہوا ہے…

دلیل کے طور پر صرف یہ بات پیش کی جاتی ہے کہ عربی زبان میں ’’ جہاد ‘‘ کا معنی صرف لڑنا نہیں بلکہ محنت اور مشقت کا ہر کام ہے… اور قرآن مجید چونکہ عربی زبان میں نازل ہوا اس لئے اس میں جہاں جہاں بھی لفظ ’’ جہاد ‘‘ آیا ہے اس کا معنی عام ہے …

آئیے ذرا اس بات کو شریعت کے ایک مسلم اصول کی رو سے سمجھ لیں…

ہر لفظ کے چار طرح کے معنی ہوتے ہیں…

(۱) معنی لغوی… کسی بھی لفظ کے وہ معنی جس کے اظہار کے لئے یہ لفظ بنایا گیا…

مثالیں روز مرہ کے کلام میں لاکھوں ہیں اور ہر زبان میں…

(۲) معنی شرعی… ایک لفظ کے معنی لغوی کے علاوہ وہ معنی جسے شریعت میں ( قرآن و حدیث) میں ذکر کیا گیا ہو۔ مثال اس کی تمام فرائضِ اسلام ہیں۔ مثلاً:

۱ـ

’’ صلوٰة ‘‘ عربی زبان میں ’’دعا ‘‘ کو کہتے ہیں۔ اسی لئے درود شریف کو بھی ’’ صلوٰة ‘‘ کہا جاتا ہے کہ اس کا معنی نبی کریمﷺ کے لئے رحمت کی دعا کرنا ہے اور اس لفظ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس کا معنی ہے ’’ رحمت نازل کرنا ‘‘.

۲ـ

’’ صوم ‘‘ عربی زبان میں کسی کام سے رک جانے کو کہتے ہیں۔ خواہ کسی بھی کام سے رکنا ہو۔ چلنے سے رکنا، بات کرنے سے رکنا، کھانے پینے سے رکنا وغیرہ

۳ـ

’’ زکوٰة ‘‘ کے معنی پاک کرنے کے آتے ہیں… خواہ کسی چیز کا پاک کرنا ہو…

٤ـ

اور ’’ حج ‘‘ کے معنی ارادے اور قصد کے ہیں…

شریعت نے ان الفاظ کو بعض مخصوص عبادات کا نام قرار دے کر ان کے معنی میں خاص کر دیا…

’’ صلوٰة‘‘ نام رکھ دیا گیا اس عبادت کا جو مخصوص افعال کے ساتھ ادا کی جاتی ہے… تکبیر تحریمہ سے شروع اور سلام پر ختم ہوتی ہے۔

’’ صوم ‘‘ نام رکھا گیا رمضان المبارک کے ایام میں صبح صادق سے غروب آفتاب تک بھوکے پیاسے رہنے اور بیویوں کی قربت سے اجتناب کرنے کا…

’’ زکوٰۃ ‘‘ سال گزر جانے پر اپنے مال کے ایک متعین حصے کو اللہ تعالیٰ کے نام پر خرچ کرنے کو کہا گیا.

اور’’ حج ‘‘ بیت اللہ کی طرف سفر اور وہاں مخصوص افعال کی ادائیگی کے معنی میں متعین کر دیا گیا…

اب یہ ان الفاظ کے شرعی معنی ہوئے…

اسلامی فقہ کا مسلمہ اور غیر اختلافی اصول یہ ہے کہ جب کسی لفظ کے شرعی معنی آجائیں تو پھر وہی اس لفظ کے حقیقی معنی ہوتے ہیں… اور قرآن و حدیث میں جب بھی یہ لفظ وارد ہو تو اسی معنی میں سمجھا جاتا ہے نہ کہ اپنے لغوی معنی میں… اس لفظ سے متعلق نازل ہونے والے احکام ، فضائل، مسائل، مبشرات اور وعیدوں کا تعلق اسی معنی سے متعلق ہوتے ہیں نہ کہ عمومی لغوی معنی سے…

فریضے کی ادائیگی بھی اسی معنی پر عمل کرنے سے ہوتی ہے نہ کہ لغوی معنی پر عمل کر لینے سے…

اب ’’ دعا ‘‘ کرنے یا درود پڑھنے سے ’’ اقیموا الصلوٰة ‘‘ کے حکم پر عمل نہیں ہو سکتا اور نہ ہی نماز کی کوئی فضیلت دعا و درود سے حاصل ہو سکتی ہے حالانکہ لفظ صلوٰة کے ایک معنی پر تو دعا کرنے سے عمل ہو جاتا ہے…

اب کسی کا اصطلاح شرعی کے بارے میں یہ باور کرلینا کہ اس کی لغوی تعبیر پر عمل سے اصل فریضہ ادا ہوجاتا ہے پورے دین کا حلیہ بگاڑ دے گا۔

اگر جہاد کے بارے میں معیار بدل دیا جائے تو باقی احکام اپنے دائرے میں کیونکر باقی رہ سکیں گے؟۔

آئیے! اس تناظر میں لفظ ’’ جہاد ‘‘ کا جائزہ لیتے ہیں…

جہاد لغت میں کسی مقصد کے حصول کے لیے محنت اور کوشش کو کہتے ہیں جب کسی مخالف فریق کے خلاف ہو۔

ھو استفراغ الوسع فی المدافعة بین الطرفین ولو تقدیراً ( لسان العرب)

قرآن مجید کی مکی سورتوں میں ’’جہاد‘‘ اسی معنی میں وارد ہوا ہے۔ حتی کی ان آیات میں کافر کے عمل پر بھی جہاد کا اطلاق ہوا ہے… وان جاھداک علی ان تشرک بی (الآیہ)

ترجمہ: ’’اگر کافر والدین زور ڈالیں کہ تو شرک کر میرے ساتھ‘‘

کافر والدین کے مومن اولاد کو شرک کی طرف بلانے میں زور صرف کرنے کو جہاد کہا گیا…

اس معنی میں جہاد کسی عبادت کا نام نہیں تھا…

مدینہ منورہ میں ’’ جہاد ‘‘ کا لفظ ایک فریضے کے بیان کے طور پر ہوا اور ایک عبادت کا نام رکھ دیا گیا…

ایک ایسی عبادت جسے انسانوں کی دیگر عبادات سے افضل قرار دے دیا گیا…

اس کی طرف شدت سے بلایا گیا… آنے والوں کے لئے خوب انعامات کا اعلان ہوا اور نہ آنے والوں پر سخت وعید اتاری گئی…

اب یقیناً یہ الفاظ اپنے عام لغوی مفہوم میں نہیں رہا بلکہ صلوٰة، زکوٰة، حج اور صوم کی طرح ایک خاص معنی میں ہو گیا… اب اس کے احکام، مسائل فضائل، مبشرات، اور وعیدیں تمام تر اسی معنی سے متعلق ہوں گے…

وہ معنی کیا ہیں؟؟

احکام شریعت کو امت کے لئے کھول کر بیان کرنے والے فقہاء کرام سے پوچھیں تو وہ تمام تر اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ ’’ جہاد ‘‘ کے شرعی معنی ’’ قتال‘‘ میں محنت صرف کرنا ہیں۔ ملاحظہ فرمائیے چاروں فقہی مسالک کی معتبر کتب سے جہاد کے معنی:

جہاد کی تعریف فقہ حنفی میں

(۱) اَلجِہَادُ بَذلُ الوَسعِ وَالطَّاقَۃِ بِالقِتَالِ فِی سَبِیلِ اللہ عَزَّوَجَلَّ بِالنَّفسِ وَالمَالِ وَالِّلسَانِ وَغَیرِذَالِکَ۔

قتال فی سبیل اللہ میں اپنی جان، مال اور زبان اور دوسری چیزوں سے بھرپور کوشش کرنے کو جہاد کہتے ہیں۔(بدائع الصنائع)

(۲)اَلجِہَادُ دَعوَۃُ الکُفَّارِ اِلَی الدِّینِ الحَقِّ وَقِتَالُھُم اِن لَّم یَقبَلْوا۔

جہاد کے معنی کافروں کو دین حق کی طرف دعوت دینا اور ان سے قتال کرنا، اگر وہ دین حق کو قبول نہ کریں۔ (فتح القدیر)

جہاد کی تعریف فقہ مالکی میں:

قِتَالُ المْسلِم کَافِراً غَیرَ ذِی عَہدٍ لِاِعلَاءِِ کَلِمَۃِ اللہ

جہاد کے معنی ہیں مسلمانوں کا غیر ذی عہد کافروں سے اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی کے لئے قتال کرنا۔ (حاشیہ العدوی، الشرح الصغیر)

جہاد کی تعریف فقہ شافعی میں:

وَشَرعًابَذلُ الجُہدِ فِی قِتَالِ الکُفَّارِ۔

اور جہاد کے شرعی معنی، اپنی پوری کوشش کافروں سے قتال کرنے میں صرف کرنا۔(فتح الباری)

جہاد کی تعریف فقہ حنبلی میں:

اَلجِہَادُ قِتَالُ الکُفَّارِ

جہاد کافروں سے لڑنے کو کہتے ہیں۔ (مطالب لاولی النہی)(فضائل جہاد ص ۷۲۱)

محدثین کرام کا طرز عمل ملاحظہ ہو کہ وہ اپنی کتب میں ’’ کتاب الجہاد ‘‘ کے عنوان کے تحت وہ احادیث ذکر کرتے ہیں جن کا تعلق حکم قتال سے ہے اور کسی محدث کا طرز عمل بھی اس کے خلاف نہیں…

صحیح بخاری سے ایک آخری درجے کی کتاب تک…

مفسرین کرام نے ’’ جہاد ‘‘ کس معنی میں سمجھا؟… تمام تر معتبر کتب تفسیر میں قرآن مجید کی مدنی آیتوں میں لفظ جہاد کی تشریح قتال سے کی گئی ہے۔ اردو خوان حضرات! ترجمہ حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ ملاحظہ کر لیں…

’’جہاد ‘‘ کا ترجمہ تمام مدنی آیات میں ’’ لڑنے ‘‘ سے کیا گیا ہے…

امت کے یہ تین طبقات ہی ایسے ہیں جن کی رائے احکام شریعت کے باب میں معتبر ہے اور ان تینوں کا اتفاقی طرز عمل آپ کے سامنے رکھ دیا گیا ہے…

رہی بات صوفیاء کرام کی اصطلاحات کی… تو علماءِ امت نے صوفیاء کا احترام ملحوظ رکھتے ہوئے بھی یہ بات اتفاقی(اجماعی) طور پر لکھ دی ہے کہ صوفیاء کی اصطلاحات کا احکام شریعت کے باب میں کوئی درجہ نہیں ہے…

یوں کہنا کہ ’’ قتال ‘‘ بلاشبہ جہاد کے شعبہ جات میں سے ایک بڑا شعبہ ہے، لیکن’’ جہاد ‘‘کے معنی اسی کے لئے خاص نہیں، اس لئے قتال کے ترک سے پورے جہاد کا ترک لازم نہیں آتا…قرآن، حدیث اور فقہاء کرام کی تصریحات کے خلاف بات ہے…

ایسا کہنے والوں سے میرے چند سوالات ہیں.⬇⬇⬇

(۱) قرآن مجید کی جن آیات میں مسلمانوں کو ترک جہاد پر سخت وعیدیں دی گئیں ان وعیدوں کا مصداق ’’ جہاد ‘‘ کا کونسا شعبہ ہے؟

(۲) صحابہ کرام نے نبی کریمﷺ سے ’’ جہاد ‘‘ کے برابر عمل کا سوال کیا… بخاری و مسلم دونوں میں روایت ہے… اگر دین میں مشقت والا ہر عمل جہاد تھا تو یہ کس عمل کی برابری کی خواہش میں سوال کیا گیا؟ …

(۳) سورة النساء میں اور سورہء توبہ میں ’’ جہاد ‘‘ کر نے والے مسلمانوں کو دیگر تمام سے افضل قرار دیا گیا… درجے اور مقام میں بھی… اجر میں بھی … ان آیات میں ’’ جہاد ‘‘ کا کونسا شعبہ مراد ہے؟ اگر مسلمانوں کے ہر مشقت والے عمل پر جہاد کا اطلاق ہو سکتا ہے تو غیر مجاہد کون سا مسلمان ہوا؟

پھر افضل کون اور کم درجے والا کون؟؟؟…

(٤) امام سرخسی رحمۃ اللہ علیہ نے المبسوط میں امت مسلمہ کا جہاد کے بارے میں جو اجماعی عقیدہ ذکر کیا ہے:الجہاد فریضۃ محکمۃ

( جہاد ایک محکم فریضہ ہے )

اس سے’’ جہاد ‘‘ کا کونسا فرد مراد ہے؟ کیا ہر وہ عمل فرض ہے جس میں محنت اور مشقت کے معنی ہوں؟… کیا امت مسلمہ کا کوئی ایک اہل علم بھی اس بات کا قائل ہے؟؟…

بات طویل ہو جائے گی … خلاصہ کرتے ہیں…

’’ جہاد ‘‘ کے شرعی معنی ’’ قتال فی سبیل اللہ ‘‘ ہیں۔ فقہاء، محدثین، اور مفسرین اس پر متفق ہیں…

شریعت کے مسلمہ اصولوں کی رو سے حکم شرعی، اس کے فضائل و احکام کا تعلق معنی شرعی سے ہوتا ہے نہ کہ معنی لغوی سے… اور یہ اصول نماز سمیت تمام احکام میں لاگو ہے…

لہٰذا قرآن مجید کی مدنی سورتوں اور نبی کریمﷺ کی احادیث مبارکہ میں جہاد عموماً ‘اسی معنی میں استعمال ہوا ہے… اس کے معنی میں عموم کا قول قرآن ، حدیث اور مسلمہ اصول دین کے خلاف ہے.

(جاری ہے)

5 دعوت کو جھاد سے افضل، اہم اور آیات جھاد کا اولین مصداق ثابت کرنے کے لیے جو یہ کہا جاتا ہے کہ:

قتال میں شفاء غیظ اور اطفاء شعلہء غضب کی صورت بھی ہے اور یہاں(دعوت میں) اللہ کے لیے صرف کظم غیظ ہے اور اس کے دین کے لیے لوگوں کے قدموں میں پڑکے اور ان کی منتیں، خوشامدیں کرکے بس ذلیل ہونا ہے”(ملفوظات).

تو اس کا جواب یہ ہے کہ بے شک غصہ دین اسلام میں انتہائی ناپسندیدہ امر ہے، اور قرآن مجید میں غصہ پر قابو رکھنے کا حکم ہے، مگر یہ سب کچھ اس وقت ہے جب غصہ اور اس کا استعمال اپنی ذات اور اپنے نفس کے لیے ہو.

جبکہ جھاد میں قوت غضبیہ کا استعمال اللہ کی رضا اور دینی غیرت و حمیت کے اظہار کے لیے ہوتا ہے، کفر سے نفرت اور کفر کی سرکشی پر غصہ، یہ اللہ کے لیے ہے، اپنی ذات کے لیے نہیں.

مسلمان کافروں کی گردنیں اپنے نفس کے تقاضے پر نہیں کاٹتے بلکہ اس جذبے کے تحت کاٹتے ہیں کہ یہ کافر اللہ کا دشمن ہے، یہ لوگوں تک دینی دعوت پہنچانے کی راہ میں رکاوٹ ہے، یا اس نے اپنے کفریہ جذبے سے مغلوب ہوکر مسلمانوں کی جان، مال، آبرو پر ہاتھ ڈالا ہے.

6 اسی طرح ایک ضروری بات یہ بھی سمجھ لیں کہ جہاد کی تعریف میں بعض علماء نے جہاد کی بعض انواع کا ذکر بھی کیا ہے یعنی ایک نوع جہاد بالمال ہے، دوسری نوع جہاد باللسان ہے اور تیسری نوع جان سے جہاد کرنا ہے۔غرض یہ ہے کہ’’جہاد باللسان‘‘وہ ہے کہ جس سے جہاد کا فائدہ ہو یعنی جہاد کی ترغیب ہو،تقریر ہو،فضائل جہاد کا تذکرہ ہو،جہاد سے متعلق جوشیلے اشعار ہوں اور جان دار نظمیں ہوں،کفار کو دھمکی ہو،للکارہو۔

یہ جہاد باللسان ہے ،نہ یہ کہ دو گھنٹے کی تقریروبیان کھانے پینے اور پہننے کے آداب پر ہویا عبادات کے’’فضائل‘‘پر اور پھر کہا جائے کہ میں نے جہاد باللسان کیا ۔یہ نیک کام تو ہوسکتا ہے لیکن جہاد باللسان نہیں۔اسی طرح ’’جہاد بالمال‘‘یہ ہے کہ آپ کے مال سے میدانِ جہاد اور مجاہدین کو فائدہ پہنچے، نہ یہ کہ آپ نے کسی فقیر کو پیسہ زکوٰۃ اداکیا اور پھر کہا کہ میں نے جہاد بالمال کیا، یہ نیک کام تو ہے لیکن جہاد بالمال نہیں۔امام کاسانی الحنفی ﷫فرماتے ہیں:

’’بذل الواسع والطاقة بالقتال فی سبیل اللّٰہ عزوجل بانفس والمال وغیر ذلک‘‘

’’اللہ کے راستے میں قتال کے لئے نفس ،مال اور زبان وغیرہ کی پوری طاقت لگادینا‘‘۔

امام کاسانی ﷫،بداع ج:۹ص:۴۲۹۹۔

غرضیکہ ہر وہ کوشش جو کہ جہاد فی سبیل اللہ کی مددو نصرت کے لئے کی جائے ،چاہے وہ جہاد کے لئے لوگوں کو زبان سے تیار کرنا ہو،یا مجاہدین کے لئے سامانِ حرب ورسد کا فراہم کرنا ہو۔رسول اللہﷺنے فرمایا:

((جاھدو المشرکین باموالکم وانفسکم والسنتکم))

’’مشرکوں سے جہاد کرو اپنے مالوں کے ساتھ ،اپنی جانوں کے ساتھ اور اپنی زبانوں کے ساتھ‘‘۔

مسند احمد،ج:۲۴،ص:۳۴۴،رقم الحدیث:۱۱۷۹۸۔

((ان اللّٰہ عزوجل یدخل بالسھم الواحد ثلاثة نفرالجنة ؛صانعہ الذی یحتسب فی صنعتہ الخیر، والذی یجھز بہٖ فی سبیل اللّٰہ ،والذی یرمی بہٖ فی سبیل اللّٰہ))

’’بے شک اللہ عزوجل ایک تیر سے تین بندوں کو جنت میں داخل فرماتے ہیں ۔تیر بنانے والا جو اسے بنانے میں بھلائی کا ارادہ رکھتا ہو،اللہ کی راہ میں وہ تیر(مجاہد کو)مہیا کرنے والا ،اور اللہ کی راہ میں وہ تیر چلانے والا‘‘۔

مسند احمد،ج:۳۵،ص:۲۰۹،رقم الحدیث:۱۶۶۹۹۔

7 شیخ یونس صاحب دامت برکاتہم “نوادر الفقہ” میں “فی سبیل اللہ” پر مفصل کلام کرنے کے بعد آخر میں فرماتے ہیں:

“البتہ جو فضائل خاص طور سے جاں فروشی اور سر کٹانے کے بارے میں وارد ہیں اس میں ان (تبلیغی اسفار) کو شامل کرنا اشکال سے خالی نہیں.

نوادر الفقہ، صـــ ۱۳٦

(جاری ہے)

٤

بندہ کی حوصلہ افزائی اور کلمات خیر پر آپ تمام حضرات کا میں ممنون و مـشکور ہوں، خاص ط

اصل میں دعوت کا کام بہت ہی لچکدار ہے، اس میں وسعت و گہرائی ہے، اور چونکہ یہ (دعوت) جھاد کا پیش خیمہ ہے اس لیے اس کو جھاد کے ساتھ کافی مناسبت ہے،

نیز حالات اور ماحول کے اختلاف سے اس کے مختلف مراحل ہیں، جن کو امت کے وہ علماء ربانیین بخوبی سمجھ سکتے ہیں جنھیں تفقہ فی الدین حاصل ہے،

میں نے اپنے مضمون کے آخر میں جو یہ بات لکھی ہے کہ:

“دعوت کے کام میں آیات جھاد سے رہنمائی لی جاسکتی ہے اور ان آیات کی روشنی میں کام کو آگے بڑھایا جاسکتا ہے”

اس کا مطلب بالکل واضح ہے کہ دعوت کے کام کو جھاد سے یک گونہ مناسبت ہے، چنانچہ بہت سے وہ امور جو جھاد میں پائے جاتے ہیں وہ دعوت کے کام میں بھی پائے جاتے ہیں، مثلاً:

۱ـ امارت

۲ـ شوری و مشورہ

۳ـ خروج

٤ـ جماعت

۵ـ سفر

٦ـ مشقتیں

۷ـ صبر و جفاکشی

۸ـ امیر کی اطاعت

وغیرہ

ان تمام امور میں جھادی آیات و احادیث سے رہبری حاصل کی جائے.

جیسا کہ حیاة الصحابہ میں ان چیزوں کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے،

البتہ اس میں تحریف و غلو سے بچا جائے، اور جھادی آیات و احادیث کو اس طرح نہ بیان کیا جائے کہ یہ شبہ بلکہ یقین ہونے لگے کہ یہ (دعوت کا کام) اصل جھاد ہے، بلکہ اس طرح بیان کیا جائے کہ جھاد کی عظمت بھی دل میں راسخ ہوجائے اور کام کی رہنمائی اور سمجھ بوجھ بھی حاصل ہوجائے،

میں بطورِ مثال (نہ کہ بطور حصر) صرف ایک شخصیت کا نام ذکر کروں گا جن کو اللہ نے اس صلاحیت سے نوازا ہے، آپ براہ راست ان کے بیانات سن لیجیے، یا ان کے آڈیو سماعت فرمالیجیے، یا پھر ان کے خطبات و مواعظ کا مطالعہ کرلیجیے، شروع سے آخر تک افراط و تفریط اور تحریف و غلو سے پاک باتیں ہی ملیں گی،

اور وہ شخصیت ہے مولانا ابراہیم صاحب دیولا.

تحریف و غلو کی ایک عام فہم مثال یہ ہے کہ دعوت کے لیے جھاد کے فضائل کو ثابت کرنے میں اصل جھاد ہی کا انکار کردیا جائے،(اس تحریف سے تو ہماری دعوت و تبلیغ کی جماعت عمومی طور پر محفوظ ہے والحمد للہ علی ذلک) یا جھاد کو دعوت سے کمتر ثابت کیا جائے،(یہ بات جماعت میں پیدا ہوچکی ہے، البتہ اس کے ازالے کے لیے بھی محنت جاری ہے) یہ تحریف ہے،

اور یوں کہنا کہ جھاد تو ایک عارضی چیز تھی اور دعوت مستقل اور دائمی ہے، اس لیے یہ سارے فضائل اصلاً دعوت کے ہیں، اور تبعًا جھاد کے لیے بھی ہیں، اسی طرح نبی علیہ السلام اور صحابہء کرام رضی اللہ عنھم کے جھادی اسفار کے لیے جماعت کا لفظ اس طرح استعمال کرنا کہ سننے والے کو یہ وہم ہو کہ وہ حضرات بھی اسی طرح جماعت میں جاتے تھے یہ غلو ہے اور تحریف بھی ہے، (یہ باتیں بھی جماعت میں ہوتی ہیں عموم میں بھی اور خواص میں بھی، اس کے ازالے کے لیے بھی کوشش جاری ہے)

[یہ چند مثالیں بطور نمونہ کے ہے. ]

اور دین کے کام کو تحریف و غلو سے پاک کرنا یہ علماء حق کی ذمہ داری ہے جس کو وہ بحسن و خوبی ہر زمانے میں انجام دیتے رہے ہیں، اس معاملہ میں انھوں نے کبھی کسی ملامت کرنے والے کی پرواہ نہیں کی، اور تا صبح قیامت امت میں ایسے علماء حق پیدا ہوتے رہیں گے،

اللہ ہمیں دین کی صحیح سمجھ نصیب فرمائے آمین

ابو عمر عفی عنہ

Adyaan Batilah Aqaaid Bidaat or Rasme Dawah & Tableeg Gumrah Firqe Hadith & Sunnah Quran e Kareem Taqleed or Masalik
Abu Hanifa امام ابو حنیفہ امام ابو حنیفہ تابعی سیرت امام ابوحنیفه درباره امام ابوحنیفه abu hanifa quotes abu hanifa mosque abu hanifa ra abu hanifa meaning abu hanifa book abu hanifa in hindi abu hanifa name abu hanifa ka bayan abu hanifa pdf abu hanifa ki taqreer abu hanifa bayan abu hanifa life history abu hanifa hadees abu hanifa wisdom abu hanifa facebook abu hanifa on yazid abu hanifa naat abu hanifa islamqa abu hanifa shia abu hanifa jiboni abu hanifa and imam bukhari abu hanifa and jafar sadiq abu hanifa alcohol abu hanifa academy abu hanifa aqeedah abu hanifa al-dinawari abu hanifa age abu hanifa al noman abu hanifa and the atheist abu hanifa an-nu‘man abu hanifa and the drunkard abu hanifa about shia abu hanifa and hadith abu hanifa and bahlool abu hanifa about music abu hanifa and riyazuddin ali abu hanifa afghan abu hanifa anas ibn malik imam abu hanifa's al-fiqh al-akbar explained imam abu hanifa about yazid abu hanifa books abu hanifa books pdf abu hanifa blackburn abu hanifa bangla abu hanifa ibn ali abu hanifa born in which hijri abu hanifa beer abu hanifa birthplace abu hanifa bangla book abu hanifa biography pdf abu hanifa biography in urdu abu hanifa bukhari abu hanifa baghdad abu hanifa books in english abu hanifa beard abu hanifah blackburn holidays abu hanifa blasphemy abu hanifa books name abu hanifa bidah abu hanifa centre abu hanifa criticism abu hanifa construction abu hanifa.com abu hanifah contact abu hanifa childhood abu hanifa chain abu hanifa college abu hanifa conference abu hanifah character imam abu hanifa contribution to islam sheikh abu hanifa contact number abu hanifa islam channel abu hanifa ruqya contact sheikh abu hanifa contact imam abu hanifa celebrate mawlid abu hanifa quran created imam abu hanifa college peshawar imam abu hanifa contribution imam abu hanifa clothes abu hanifa date of birth abu hanifa dinawari abu hanifa daughter abu hanifa debate abu hanifa drinking alcohol abu hanifa debate with shia abu hanifa dar al harb abu hanifa dream abu hanifa drunk neighbour abu hanifa died abu hanifa school dubai imam abu hanifa dawateislami imam abu hanifa dua imam abu hanifa deoband abu hanifa east ham abu hanifa exposed abu haneefa educational trust abu_hanifa_efendi musnad abu hanifa english imam abu hanifa exposed imam abu hanifa education imam abu hanifa era imam abu hanifa early life imam abu hanifa r jiboni musnad abu hanifa english pdf imam abu hanifa essay imam abu hanifa english imam e abu hanifa e waqia imam abu hanifa books english
امام ابو حنیفہ رح کا مقام ائمہ جرح و تعدیل کی نظر میں
حقیقت ڈاکٹر ذاکر نائیک حقیقت کے آئینہ میں ڈاکٹر ذاکر ڈاکٹر ذاکر نائک ڈاکٹر ذاکر نائیک ڈاکٹر ذاکر نایک ڈاکٹر ذاکر نائک ڈاکٹر ذاکر نائیک ڈاکٹر ذاکر نایک حقیقت ایمان حقیقت مرگ حقیقت نگاری حقیقت خلافت و ملوکیت حقیقت کی تعریف حقیقت شرک pdf حقیقت نه مجاز است حقیقت مانا حقیقت تلخ حقیقت به انگلیسی حقیقت محض حقیقت تلخ است حقیقت جو حقیقت تلخ به انگلیسی حقیقت زندگی حقیقت خاموش حقیقت های زندگی حقیقت و واقعیت حقیقت نژاد حقیقت عاشورا حقیقت conjuring
ڈاکٹر ذاکر نائیک حقیقت کے آئینہ میں
و نظریات جماعت اسلامی جماعت اسلامی کی حقیقت جماعت اسلامی پاکستان جماعت اسلامی کا تعارف جماعت اسلامی هند جماعت اسلامی کی منافقت جماعت اسلامی کی تاریخ جماعت اسلامی کا منشور جماعت اسلامی کی دعوت جماعت اسلامی کا نصب العین جماعت اسلامی کا دستور جماعت اسلامی کا مقصد جماعت اسلامی احمدیه جماعت اسلامی کا یوم تاسیس جماعت اسلامی ہند جماعت اسلامی کی خدمات جماعت اسلامی بنگله دیش جماعت اسلامی آزاد کشمیر جماعت اسلامی پاکستان کا منشور جماعت اسلامی کا مسلک جماعت اسلامی خواتین مسائل و نظریات فلسفه نظریات و عقاید در جدول
جماعت اسلامی یا مودودی فرقہ; افکار و نظریات
Ahkame Maiyat Hajj & Umrah Jumuah & Eid Prayers Namaz Qasam aur Kaffara Qurbani Sawm Taharah Waqf Masjid Madrasa Zakat & Charity
Jallalah yani Najasat khane wale Janvar ki Qurbani qurbani ka ghost qurbani video qurbani song qurbani picture qurbani mp3 song qurbani movie qurbani ka tarika qurbani ki dua qurbani ke bakre qurbani goru qurbani video song qurbani cow qurbani ke janwar qurbani movie song qurbani 2018 qurbani ka qurbani full movie qurbani bakra qurbani ka bayan qurbani feroz khan qurbani eid qurbani all songs qurbani audio qurbani animals qurbani accident qurbani allah qurbani album qurbani all mp3 song qurbani actress name qurbani actors qurbani attack qurbani all mp3 song download qurbani age qurbani all mp3 qurbani aap jaisa koi mp3 qurbani arab qurbani audio songs free download qurbani aap jaisa koi lyrics gurbani amritsar qurbani aap jaisa koi ringtone qurbani at hajj qurbani bp qurbani bakre qurbani bull qurbani biryani qurbani bakra mandi qurbani bangla qurbani bail qurbani bikini qurbani buffalo qurbani bhojpuri gana qurbani bakra image qurbani bangalore qurbani bayan video qurbani book qurbani bangla film qurbani by qurbani bataye qurbani bucket qurbani bakra eid ki qurbani comedy video qurbani camel qurbani cast qurbani cartoon qurbani cover qurbani chennai qurbani chahiye qurbani cutting qurbani chicken qurbani candy qurbani circle qurbani camel cutting qurbani cast crew qurbani chaudhary qurbani chutkule qurbani cow images qurbani cinemar gaan qurbani calendar qurbani dua qurbani date qurbani dj qurbani dena qurbani dance qurbani date 2018 qurbani dauna maya lage na qurbani downloadming qurbani during hajj qurbani dry fruit qurbani danger qurbani day qurban drama qurbani dikhao qurbani details qurbani dry fruit in english qurbani dialogue qurbani dry fruit benefits qurbani dikhao video qurbani dekhte chai qurbani ka gosht qurbani ka gosht kafir ko dena qurbani ka gosht ki taqseem qurbani ka gosht dekhna qurbani ka gosht ghair muslim qurbani ka gosht ki taqseem in islam qurbani ka gosht banane ka tarika qurbani ka gosht ki taqseem hadees qurbani ka gosht non muslim qurbani ka gosht in muharram qurbani ka gosht recipe qurbani ka gosht in urdu qurbani ka gosht rakhna qurbani ka gosht in bible qurbani ka gosht taqseem qurbani ka gosht muharram mein khana qurbani ka gosht khana qurbani ka gosht meaning in english qurbani ka gosht in english qurbani ka gosht video
Jallalah yani Najasat khane wale Janvar ki Qurbani
Qurbani ke Gosht ki Taqsim qurbani ka ghost qurbani video qurbani song qurbani picture qurbani mp3 song qurbani movie qurbani ka tarika qurbani ki dua qurbani ke bakre qurbani goru qurbani video song qurbani cow qurbani ke janwar qurbani movie song qurbani 2018 qurbani ka qurbani full movie qurbani bakra qurbani ka bayan qurbani feroz khan qurbani eid qurbani all songs qurbani audio qurbani animals qurbani accident qurbani allah qurbani album qurbani all mp3 song qurbani actress name qurbani actors qurbani attack qurbani all mp3 song download qurbani age qurbani all mp3 qurbani aap jaisa koi mp3 qurbani arab qurbani audio songs free download qurbani aap jaisa koi lyrics gurbani amritsar qurbani aap jaisa koi ringtone qurbani at hajj qurbani bp qurbani bakre qurbani bull qurbani biryani qurbani bakra mandi qurbani bangla qurbani bail qurbani bikini qurbani buffalo qurbani bhojpuri gana qurbani bakra image qurbani bangalore qurbani bayan video qurbani book qurbani bangla film qurbani by qurbani bataye qurbani bucket qurbani bakra eid ki qurbani comedy video qurbani camel qurbani cast qurbani cartoon qurbani cover qurbani chennai qurbani chahiye qurbani cutting qurbani chicken qurbani candy qurbani circle qurbani camel cutting qurbani cast crew qurbani chaudhary qurbani chutkule qurbani cow images qurbani cinemar gaan qurbani calendar qurbani dua qurbani date qurbani dj qurbani dena qurbani dance qurbani date 2018 qurbani dauna maya lage na qurbani downloadming qurbani during hajj qurbani dry fruit qurbani danger qurbani day qurban drama qurbani dikhao qurbani details qurbani dry fruit in english qurbani dialogue qurbani dry fruit benefits qurbani dikhao video qurbani dekhte chai qurbani ka gosht qurbani ka gosht kafir ko dena qurbani ka gosht ki taqseem qurbani ka gosht dekhna qurbani ka gosht ghair muslim qurbani ka gosht ki taqseem in islam qurbani ka gosht banane ka tarika qurbani ka gosht ki taqseem hadees qurbani ka gosht non muslim qurbani ka gosht in muharram qurbani ka gosht recipe qurbani ka gosht in urdu qurbani ka gosht rakhna qurbani ka gosht in bible qurbani ka gosht taqseem qurbani ka gosht muharram mein khana qurbani ka gosht khana qurbani ka gosht meaning in english qurbani ka gosht in english qurbani ka gosht video
Qurbani ke Gosht ki Taqsim
Janvar kharidte waqt Dusro ko Sharik karne ki Niyyat nahi thi, Baad me Sharik kiya to ? qurbani qurbani video qurbani song qurbani picture qurbani mp3 song qurbani movie qurbani ka tarika qurbani ki dua qurbani ke bakre qurbani goru qurbani video song qurbani cow qurbani ke janwar qurbani movie song qurbani 2018 qurbani ka qurbani full movie qurbani bakra qurbani ka bayan qurbani feroz khan qurbani eid qurbani all songs qurbani audio qurbani animals qurbani accident qurbani allah qurbani album qurbani all mp3 song qurbani actress name qurbani actors qurbani attack qurbani all mp3 song download qurbani age qurbani all mp3 qurbani aap jaisa koi mp3 qurbani arab qurbani audio songs free download qurbani aap jaisa koi lyrics gurbani amritsar qurbani aap jaisa koi ringtone qurbani at hajj qurbani bp qurbani bakre qurbani bull qurbani biryani qurbani bakra mandi qurbani bangla qurbani bail qurbani bikini qurbani buffalo qurbani bhojpuri gana qurbani bakra image qurbani bangalore qurbani bayan video qurbani book qurbani bangla film qurbani by qurbani bataye qurbani bucket qurbani bakra eid ki qurbani comedy video qurbani camel qurbani cast qurbani cartoon qurbani cover qurbani chennai qurbani chahiye qurbani cutting qurbani chicken qurbani candy qurbani circle qurbani camel cutting qurbani cast crew qurbani chaudhary qurbani chutkule qurbani cow images qurbani cinemar gaan qurbani calendar qurbani dua qurbani date qurbani dj qurbani dena qurbani dance qurbani date 2018 qurbani dauna maya lage na qurbani downloadming qurbani during hajj qurbani dry fruit qurbani danger qurbani day qurban drama qurbani dikhao qurbani details qurbani dry fruit in english qurbani dialogue qurbani dry fruit benefits qurbani dikhao video qurbani dekhte chai
Janvar kharidte waqt Dusro ko Sharik karne ki Niyyat nahi thi, Baad me Sharik kiya to ?
Dusrei Maamlat Interest & Insurance Penal Code Shares & Investments Tijarat (Business) Wirasat or Wasiyyat
Sher Market me Investment ki Sharte Sher Market Investment muslim Sher Market me Investment ki Sharte share market investment share market investment tips share market investment app share market investment in hindi share market investment calculator share market investment company list share market investment app india share market investment courses share market investment company share market investment plans share market investment types share market investment learning share market investment quora share market investment ideas share market investment india share market investment good or bad share market investment brokers share market investment tutorial share market investment benefits share market investment knowledge share market investment advisor share market investment and profit share market investment advice share market investment advice in hindi share market investment pros and cons share market investment books share market investment beginners share market investment basics pdf share market investment basic knowledge share market investment blogs share market investment basics india investment banking market share share market investment for beginners pdf best share market investment share market investment for beginners in india pdf share market investment for beginners in sri lanka share market investment hdfc bank share market investment in bangladesh share market investment in bangalore share market investment sbi bank share market investment for beginners in hindi best share market investment in india investment banking ranking market share share market investment classes share market investment canada share market investment.com share market investment in chennai investment consultant market share share market investment in islam share market investment in islam
Sher Market me Investment ki Sharte
car loan sbi car loan eligibility car loan india car loan axis bank car loans interest rates hdfc car loan car loan emi calculator sbi car loan emi calculator buying car on installment in islam car leasing halal or haram sharia car finance how to buy a car Islamically islamic car loan india is apr halal is finance haram in islam islamic finance cars london car loan in islam car loan car loan in islamic banking car loan in islamabad car financing in islam car financing in islamic banking vehicle loan in islam car loan in dubai islamic bank car loan in bangladesh islami bank car loan in emirates islamic bank car loan islamic vs conventional car loan islamqa car loan islami bank car loan islamic malaysia car loan islamic bank uae car loan islamic uae car loan in abu dhabi islamic bank car loan sharjah islamic bank car loan cimb islamic car loan calculator islamic car loan calculator islamic bank car loan bank islam graduate car loan allowed in islam islamic car loans in australia car loan bank islam interest rate auto loan in dubai islamic bank car loan noor islamic bank car financing islamic bank pakistan car loan interest bank islam car loan rate bank islam vehicle loan bank islam car loan uae dubai islamic bank car financing through islamic banking car loan muslim commercial bank car loan interest rate in dubai islamic bank car loan calculator dubai islamic bank car loan from islamic bank car loan is haram in islam islamic car loan in india is car loan allowed in islam is car loan permissible in islam car loan maybank islamic car financing maybank islamic car loan halal or haram buying car on loan in islam
Loan pe Car Lena
Agar Giri Padi Chiz mil jaye to Uska hukam!
Agar Giri Padi Chiz mil jaye to Uska hukam!
Akhlaq or Aadab Aurato ke Masail Clothing & Lifestyle Food & Drinks Nikah Talaq (Divorce) Taleem or Trbiyat
kya Naseeb me likhi Ladki Ladke se hi hamari Shadi hoti he ?
kya Naseeb me likhi Ladki / Ladke se hi hamari Shadi hoti he ?
Suhagraat Shadi ki Pehli Raat kaise Guzare ?
Suhagraat Shadi ki Pehli Raat kaise Guzare ?
مسنون ٹوپی
مسنون ٹوپی
Dua Halal & Haram History & Biography International Relations Khwab ki Tabeer Others Tasawwuf
laylatul qadr dua laylatul qadr dua english laylatul qadr story laylatul qadr surah laylatul qadr 2017 shab e qadr ki dua in english lailatul qadr ki dua lailatul qadr 2018
Laylatul Qadr me kya Mange
shab e barat history shab e barat 2018 shab e barat 2018 in india shab e barat 2018 date shab e barat 2018 date in india shab e barat date in islamic calendar shab e barat kab hai 2018 shab e barat in quran shab e qadr 2018 shab e qadr 2017 laylatul qadr story lailatul qadr 2018 laylatul qadr 2017 what is laylatul qadr laylatul qadr dua shab e meraj
Aamal ki Tabdili Shab E Qadar ya Shabe Baraat me Hoti he ?
Bivi ke Hath se Istimna yani Handjob ?
Bivi ke Hath se Istimna yani Handjob ?
Man pasand Rishte ke liye Wazifa
Exam me Kamyabi (pass) hone ke liye Wazifa
Exam me Kamyabi (pass) hone ke liye Wazifa
Rishta Aane ke Bawujud Rishta Nahi hota ho to
Rishta Aane ke Bawujud Rishta Nahi hota ho to?
Shohar ke Gusse ko Dur karne or uski Mohabbat or ulfat me khub izafa ho uska Aasan Tariqa
Shohar ke Gusse ko Dur karne or uski Mohabbat or ulfat me khub izafa ho uska Aasan Tariqa
April Fool or Tarikhi pas Manzar
April Fool or Tarikhi pas Manzar
Valentine Day ki Haqiqat or Pas e Manzar
Valentine Day ki Haqiqat or Pas e Manzar
Meelad un Nabi par ek Usuli Bahas
Meelad un Nabi par ek Usuli Bahas
The Month of Rajab
The Month of Rajab